ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الفتح (48) — آیت 2

لِّیَغۡفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِکَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکَ وَ یَہۡدِیَکَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا ۙ﴿۲﴾
تاکہ اللہ تیرے لیے بخش دے تیرا کوئی گناہ جو پہلے ہوا اور جو پیچھے ہوا اور اپنی نعمت تجھ پر پوری کرے اور تجھے سیدھے راستے پر چلائے۔ En
تاکہ خدا تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کردے اور تمہیں سیدھے رستے چلائے
En
تاکہ جو کچھ تیرے گناه آگے ہوئے اور جو پیچھے سب کو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے، اور تجھ پر اپنا احسان پورا کر دے اور تجھے سیدھی راه چلائے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ تاکہ اللہ آپ کی سب اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف کر دے [2] اور آپ پر اپنی نعمت پوری کر دے اور آپ کو سیدھی راہ پر چلائے
[2] ﴿ذَنْبٌ ہر اس فعل کو کہتے ہیں جس کا انجام برا ہو (مفردات القرآن) اور بمعنی ہر وہ کام جس کے نتیجہ میں مذمت ہو فقہ اللغۃ اور اس لفظ کا اطلاق اس قدر عام ہے کہ چھوٹی چھوٹی لغزشوں سے لے کر بڑے بڑے گناہوں پر بھی ہو سکتا ہے۔ سب سے بڑا گناہ قتل ناحق ہوتا ہے۔ اس کے لئے بھی یہی لفظ آیا ہے۔ سیدنا موسیٰؑ اللہ تعالیٰ سے فرماتے ہیں: ﴿وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْبٌ فَاَخَافُ اَنْ يَّقْتُلُوْنِ [14:26] اور میرے اوپر ان کا ایک گناہ (خون ناحق) ہے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے مار ہی نہ ڈالیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ [43:9] اللہ آپ کو معاف فرمائے آپ نے ان منافقوں کو کیوں (جہاد سے رخصت کی) اجازت دی؟ اور یہ تو ظاہر ہے کہ معافی کسی گناہ یا غلطی کے کام پر ہی ہوتی ہے۔ اور اس آیت میں ذنب سے مراد تدبیری امور میں بعض اجتہادی غلطیاں ہیں جو بشریت کا خاصہ ہیں۔ اور اگلے پچھلے گناہ معاف کر دینے کی بنیاد یہ ہے کہ اللہ کو معلوم تھا کہ آپ دیدہ دانستہ کوئی گناہ کر ہی نہیں سکتے۔ اس آیت کی آپ کو جو خوشی ہوئی اور اس کا آپ نے جو تاثر قبول کیا وہ مندرجہ ذیل احادیث میں ملاحظہ فرمائیے:
1۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے واپس مدینہ جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر ایک آیت ﴿لِيَغْفِرَلَكَ ایسی اتری ہے جو مجھے زمین کی ساری دولت سے پیاری ہے۔ صحابہ کہنے لگے: یا رسول اللہ مبارک ہو، مبارک ہو! اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو وضاحت فرما دی مگر ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہو گا؟ تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ ﴿لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ فَوْزًا عَظِيْمًا [ترمذي۔ ابواب التفسير]
صلح حدیبیہ کے بعد آپ کی عبادت میں اضافہ :۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب صحابہ کو کوئی حکم دیتے تو ایسے کاموں کا دیتے جنہیں وہ (بآسانی) کر سکتے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم عرض کرتے، ہم آپ جیسے نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو اللہ نے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دیئے ہیں۔ اس بات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آجاتے اور غصہ کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر نمودار ہو جاتے اور فرماتے: ”(سن لو) تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اسے جاننے والا میں ہوں“ [بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب قول النبی انا اعلمکم باللّٰہ]
3۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو (تہجد کی نماز میں) اتنا زیادہ قیام فرماتے کہ آپ کے پاؤں تڑخ جاتے (اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں سوج جاتے) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا:”یا رسول اللہ! آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو اللہ تعالیٰ نے سب اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”کیا میں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنو ں؟“ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم (آخر عمر میں) فربہ ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز بیٹھ کر پڑھا کرتے۔ جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہو کر کچھ قرأت فرماتے۔ پھر رکوع کرتے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]