6۔ اور انہیں اس جنت میں [7] داخل کرے گا جس کا اس نے انہیں تعارف کرا دیا [8] ہے
[7] یعنی جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہو جاتے ہیں اس کا صرف یہی فائدہ نہیں کہ وہ قومی زندگی کا سبب بنتے ہیں۔ بلکہ خود ان کی ذات کو بھی کئی فائدے پہنچتے ہیں۔ خواہ وہ دنیوی لحاظ سے بظاہر کامیاب نظر نہ آتے ہوں۔ مثلاً یہ کہ اللہ ان کی صحیح راستے کی طرف رہنمائی فرماتا ہے اور ان کی سرگرمیوں کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔ دوسرے یہ کہ ان کے دلوں سے ہر قسم کی کدورت دور کر کے اور ان کی حالت کو درست کر دے گا۔ پھر انہیں جنت میں داخل کرے گا۔
[8] عرف کے مختلف مفہوم :۔
اس جملہ کے تین مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ایسے باغوں میں داخل ہوں گے جن کا انہیں کتاب و سنت کے ذریعہ تعارف کرایا جا چکا ہے اور اس کی صفات کو سب جنت میں داخل ہونے والے جانتے ہوں گے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہر جنتی جنت میں اپنے مکان اور مسکن کو پہچانتا ہو گا۔ چنانچہ صحیح بخاری کتاب ”بدأ الخلق“ میں مذکور ہے کہ جنتی اپنے مکانوں اور رہائش گاہوں کو اس سے زیادہ پہچانتے ہوں گے جتنا وہ دنیا میں اپنے گھروں کو پہچانتے ہیں۔ یعنی انہیں اپنی رہائش گاہ پہچاننے میں نہ کوئی الجھن پیش آئے گی اور نہ راستہ بھولیں گے اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ جس طرح عَرَفَ کے معنی پہچاننا اور عَرَّفَ کے معنی پہچان کرانا ہے اسی طرح عَرَفَ کے معنی خوشبو لگانا اور عَرَّفَ کے معنی معطر کرنا اور خوشبو چھوڑ دینا بھی ہے۔ (مفردات القرآن) اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لیے جنت کو خوشبو سے بسا دیا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں