ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ محمد (47) — آیت 4

فَاِذَا لَقِیۡتُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَضَرۡبَ الرِّقَابِ ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَثۡخَنۡتُمُوۡہُمۡ فَشُدُّوا الۡوَثَاقَ ٭ۙ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعۡدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰی تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَہَا ۬ۚ۟ۛ ذٰؔلِکَ ؕۛ وَ لَوۡ یَشَآءُ اللّٰہُ لَانۡتَصَرَ مِنۡہُمۡ وَ لٰکِنۡ لِّیَبۡلُوَا۠ بَعۡضَکُمۡ بِبَعۡضٍ ؕ وَ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَلَنۡ یُّضِلَّ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۴﴾
تو جب تم ان لوگوں سے ملو جنھوں نے کفر کیا تو گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب انھیں خوب قتل کرچکو تو (ان کو) مضبوط باندھ لو، پھر بعد میں یا تو احسان کرنا ہے اور یا فدیہ لے لینا، یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے، (بات) یہی ہے۔ اور اگر اللہ چاہے تو ضرور ان سے انتقام لے لے اور لیکن تاکہ تم میں سے بعض کو بعض کے ساتھ آزمائے۔ اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل کر دیے گئے تو وہ ہرگز ان کے اعمال ضائع نہیں کرے گا۔ En
جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اُڑا دو۔ یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کرچکو تو (جو زندہ پکڑے جائیں ان کو) مضبوطی سے قید کرلو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا چاہیئے یا کچھ مال لے کر یہاں تک کہ (فریق مقابل) لڑائی (کے) ہتھیار (ہاتھ سے) رکھ دے۔ (یہ حکم یاد رکھو) اور اگر خدا چاہتا تو (اور طرح) ان سے انتقام لے لیتا۔ لیکن اس نے چاہا کہ تمہاری آزمائش ایک (کو) دوسرے سے (لڑوا کر) کرے۔ اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کے عملوں کو ہرگز ضائع نہ کرے گا
En
تو جب کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہوتو گردنوں پر وار مارو۔ جب ان کو اچھی طرح کچل ڈالو تو اب خوب مضبوط قید وبند سے گرفتار کرو، (پھر اختیار ہے) کہ خواه احسان رکھ کر چھوڑ دو یا فدیہ لے کر تاوقتیکہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے۔ یہی حکم ہے اور اللہ اگر چاہتا تو (خود) ہی ان سے بدلہ لے لیتا، لیکن (اس کا منشا یہ ہے) کہ تم میں سے ایک کا امتحان دوسرے کے ذریعہ سے لے لے، جو لوگ اللہ کی راه میں شہید کر دیے جاتے ہیں اللہ ان کے اعمال ہرگز ضائع نہ کرے گا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ (مسلمانو!) جب تمہاری کافروں سے مڈ بھیڑ ہو جائے تو ان کی گردنیں اڑا دو یہاں تک کہ جب بے دریغ قتل کر چکو تو ان کی مشکیں کس (کر انہیں قیدی بنا) لو۔ پھر اس کے بعد یا تو ان پر احسان کرو یا تاوان لے کر چھوڑ دو۔ تا آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے [5]۔ (تمہارے لئے) یہی (حکم) ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو خود بھی ان سے [6] انتقام لے سکتا تھا۔ مگر (یہ حکم اس لئے ہے) تاکہ تمہیں ایک دوسرے کے ذریعہ آزمائے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔
[5] دو سابقہ تمہیدی آیات کے بعد اب مسلمانوں کو جنگ سے متعلق ہدایات دی جا رہی ہیں اور ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سورۃ کے نزول سے بیشتر مسلمانوں کو جنگ کرنے کی اجازت تو مل چکی تھی مگر تا حال کوئی معرکہ پیش نہیں آیا تھا۔ مسلمانوں کو جنگ کی اجازت کے سلسلہ میں جو پہلی آیت نازل ہوئی وہ سورۃ الحج کی آیت نمبر 39 ہے پھر اس سلسلہ میں سورۃ البقرۃ کی آیات نمبر 190 تا 193 ہیں۔ اور یہ ہدایات حسب ذیل ہیں۔
1۔ جب معرکہ کارزار پیش آئے تو پورے جوش و خروش اور جرأت ایمانی سے ڈٹ کر کافروں کا مقابلہ کرو اور رسول اللہ نے فرمایا: لوگو! دشمن سے بھڑنے کی آرزو مت کرو اور اللہ سے عافیت مانگو لیکن اگر بھڑ جاؤ تو پھر ثابت قدم رہو اور جان لو کہ بہشت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ [بخاری۔ کتاب الجہاد۔ باب لاتتمنّوا لقاء العدو]
جنگ کے متعلق عام ہدایات :۔
تمہارا اصل ہدف یہ ہونا چاہئے کہ دشمن کی جنگی طاقت اور کفر کی کمر توڑ دی جائے۔ اس لیے زیادہ سے زیادہ توجہ کافروں کے قتل کی طرف رکھو۔ ہاں جب لڑائی کا زور ٹوٹ جائے اور دشمن ہتھیار رکھ دے تو اس وقت ان کے بچے کھچے آدمیوں کو قید کرو۔ اس سے پہلے قید نہ کرنے لگ جاؤ۔
جنگی قیدیوں کے متعلق ہدایات :۔
جو قیدی تمہارے ہاتھ لگ جائیں ان سے متعلق دو صورتوں میں سے کوئی ایک صوت اختیار کی جائے یا تو انہیں احسان رکھ کر چھوڑ دیا جائے یا ان کا فدیہ لے لیا جائے اس سے معلوم ہوا کہ قیدیوں کو قتل کرنا عام قاعدہ نہیں۔ تاہم قتل کی ممانعت بھی نہیں کی گئی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ کفر کے قیدیوں کو قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔ جن کا جرم صرف یہی نہیں ہوتا کہ وہ جنگ میں شامل ہوئے تھے۔ بلکہ ان کے اور بھی کئی سخت قسم کے جرائم ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ قتل کے مستحق ہوتے ہیں۔ چنانچہ فتح مکہ کے بعد قیدیوں کے عفو عام کے باوجود چار شخصوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔ جنگ بنو قریظہ کے بعد محصور یہود نے سیدنا سعد بن معاذ کو ثالث تسلیم کرتے ہوئے ہتھیار ڈالے۔ تو سیدنا سعدؓ نے ان کے حق میں یہ فیصلہ دیا کہ ان کے نوجوانوں کو قتل کر دیا جائے۔ بچوں اور عورتوں کو لونڈی غلام بنا لیا جائے۔ اور ان کے اموال کو مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد کے اس فیصلہ کو بالکل درست قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ان کا یہ فیصلہ آسمانوں والے پروردگار کے فیصلہ کے مطابق ہے چنانچہ انہیں قتل کر دیا گیا ان کا جرم صرف یہ نہ تھا کہ وہ جنگی قیدی تھے بلکہ اصل جرائم یہ تھے وہ کئی بار سمجھوتہ کے معاہدہ کی عہد شکنی کر چکے تھے اور جنگ احزاب میں عین جنگ کے درمیان دشمن کی اتحادی فوجوں سے مل کر مسلمانوں کو سخت مشکل حالات سے دوچار کر دیا تھا۔
اسارٰی بدر کے متعلق مشورہ اور فدیہ :۔
اسارٰی بدر کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مشورہ کیا۔ سیدنا عمرؓ نے یہ مشورہ دیا کہ یہ قیدی چونکہ صنادید کفر ہیں۔ لہٰذا انہیں قتل کر دینا ضروری ہے۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کے عام قاعدہ اور سیدنا ابو بکرؓ کی رائے کے مطابق فدیہ لے کر چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا اس پر مسلمانوں پر عتاب نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی منشا سیدنا عمر کے فیصلہ کے مطابق تھی۔ اس لیے کہ بدر کے قیدی محض جنگی قیدی نہ تھے۔ بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے بد ترین دشمن اور مسلمانوں اور پیغمبر اسلام کے خلاف بہت سی معاندانہ سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے۔ ان تصریحات سے معلوم ہوا کہ امام وقت کو اس عام قاعدہ کے استثناء کا اس وقت حق حاصل ہوتا ہے جبکہ جنگی قیدی اور بھی کئی جرائم میں ملوث ہوں اور امام وقت کو انہیں نہ احسان رکھ کر چھوڑنا چاہئے نہ فدیہ لے کر بلکہ انہیں قتل کر دینا چاہئے کیونکہ قتال فی سبیل اللہ کا سب سے اہم مقصد کفر کی کمر توڑنا ہے۔
قیدیوں پر احسان کی مختلف صورتیں :۔
پھر احسان رکھ کر چھوڑنے کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ ان سے کسی طرح کی کوئی خدمت نہ لی جائے اور اگر حالات اجازت دیں تو محض اللہ کی رضا اور اسلام کی اخلاقی برتری قائم کرنے کے لیے انہیں چھوڑ دیا جائے۔ جیسا کہ فتح مکہ کے دن آپ نے عفو عام کا اعلان کر دیا تھا۔ یا جنگ حنین کے بعد جنگی قیدیوں کی تقسیم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل ہوازن کی ایما پر انہیں آزاد کر دیا تھا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ان کی جان بخشی اس صورت میں کی جائے کہ انہیں مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے اور مسلمانوں کو تلقین کی جائے کہ ان سے بہتر سے بہتر سلوک کیا جائے۔ جیسا کہ جنگ حنین کے بعد پہلے آپ نے ایسے قیدیوں کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ علاوہ ازیں اور بھی کئی مواقع پر آپ نے جنگی قیدیوں کو مجاہدین میں تقسیم فرمایا تھا۔ تیسری یہ کہ اگر انہیں قید کرنا ہی پڑے تو ان سے بہتر سلوک کیا جائے اور یہ قید دائمی اور مستقل نہ ہونی چاہئے۔ اور چوتھی یہ کہ ان سے جزیہ لے کر ذمی بنا لیا جائے اور انہیں اسلامی مملکت میں آزادانہ رہنے کا حق دیا جائے۔ جیسا کہ اہل نجران سے معاملہ کیا گیا تھا۔
فدیہ کی مختلف صورتیں :۔
اور فدیہ کی بھی کئی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ان سے زر فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ جیسا کہ اساری بدر سے لیا گیا تھا اور یہ زر فدیہ ہر شخص سے اس کی حیثیت کے مطابق لیا جائے گا۔ دوسری یہ کہ ان قیدیوں سے پیسہ کی بجائے کوئی اور خدمت لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے جیسا کہ اسی اساری بدر کے موقعہ پر جن لوگوں کے پاس زر فدیہ کی رقم نہیں تھی۔ ان سے یہ خدمت لی گئی کہ ایسا ہر قیدی مسلمانوں کے دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے اور تیسری یہ کہ جنگی قیدیوں کا آپس میں تبادلہ کر لیا۔ اس کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ایک مسلمان کے بدلے ایک کافر چھوڑا جائے بلکہ ایک دفعہ آپ نے دو مسلمانوں کے بدلہ میں ایک کافر چھوڑا تھا۔ یہ ہیں وہ مختلف صورتیں جو اس آیت کے اس مختصر سے جملہ میں داخل ہیں۔ ان تمام صورتوں میں سے جو صورت بھی حالات کے مطابق اور مسلمانوں اور اسلام کے حق میں بہتر ہو، امام وقت وہی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
[6] یعنی اللہ تعالیٰ یہ کر سکتا تھا کہ باطل پرستوں اور اسلام دشمنوں پر بجلی کی کڑک یا زلزلہ بھیج کر یا سیلاب کا پانی چھوڑ کر انہیں تباہ و برباد کر دے۔ جیسا کہ وہ پہلی سرکش اقوام پر ایسے عذاب بھیج چکا ہے اور اس طرح وہ ان سے تمہارا بدلہ لے لے۔ لیکن جب تک معرکہ حق و باطل قائم نہ ہو اور میدان کارزار گرم نہ ہو تب تک بندوں کا امتحان نہیں ہو سکتا کہ کون کس درجہ میں اسلام سے مخلص اور جرأت ایمانی رکھتا ہے۔ نیز کافروں میں سے کتنے لوگ ان تنبیہی کاروائیوں سے سبق حاصل کرتے ہیں اور اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہیں جو اللہ نے انہیں دے رکھی ہے۔