ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ محمد (47) — آیت 28

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمُ اتَّبَعُوۡا مَاۤ اَسۡخَطَ اللّٰہَ وَ کَرِہُوۡا رِضۡوَانَہٗ فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿٪۲۸﴾
یہ اس لیے کہ انھوں نے اس چیز کی پیروی کی جس نے اللہ کو ناراض کر دیا اور اس کی خوشنودی کو برا جانا تو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔ En
یہ اس لئے کہ جس چیز سے خدا ناخوش ہے یہ اس کے پیچھے چلے اور اس کی خوشنودی کو اچھا نہ سمجھے تو اُس نے بھی ان کے عملوں کو برباد کر دیا
En
یہ اس بنا پر کہ یہ وه راه چلے جس سے انہوں نے اللہ کو ناراض کر دیا اور انہوں نے اس کی رضا مندی کو برا جانا، تو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کر دیئے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

28۔ یہ اس لئے کہ وہ ایسی بات کے پیچھے لگ گئے جس نے اللہ کو ناراض کر دیا اور اس کی رضا (کی راہ اختیار کرنا) پسند نہ [32] کیا تو اللہ نے ان کے سب اعمال ضائع کر دیئے۔
[32] حق و باطل کی جنگ میں جس شخص کی ہمدردیاں کافروں سے ہوں وہ مسلمان نہیں رہتا :۔
اللہ کی رضا یہ تھی کہ مسلمانوں کا ساتھ دیتے، یہودیوں کا نہ دیتے۔ لیکن انہوں نے اللہ کی رضا کے بجائے نفاق کی راہ اختیار کی اور یہودیوں کی رضا کو پسند کیا۔ لہٰذا جو نیک اعمال انہوں نے زبانی طور پر اسلام لانے کے بعد کئے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں ادا کی ہیں، روزے رکھے ہیں یا اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا ہے۔ اللہ ان کے ایسے سب اعمال ضائع کر دے گا اس سے ایک نہایت اہم بات معلوم ہوئی ہے جو یہ ہے کہ اگر مسلمانوں اور کافروں کی جنگ میں کسی مسلمان کی ہمدردیاں کافروں کے ساتھ ہوں تو وہ مسلمان نہیں رہتا اور اس کے نیک اعمال اگر کچھ ہوں تو وہ بھی اکارت جاتے ہیں۔