ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ محمد (47) — آیت 22

فَہَلۡ عَسَیۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ تُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَکُمۡ ﴿۲۲﴾
پھر یقینا تم قریب ہو اگر تم حاکم بن جاؤ کہ زمین میں فساد کرو اور اپنے رشتوں کو بالکل ہی قطع کر دو۔ En
(اے منافقو!) تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہو جاؤ تو ملک میں خرابی کرنے لگو اور اپنے رشتوں کو توڑ ڈالو
En
اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

22۔ پھر (اے منافقو!) تم لوگوں سے کیا بعید ہے کہ اگر تم حاکم ہو جاؤ تو زمین [26] پر فساد کرنے لگو اور قطع رحمی کرنے لگو
[26] منافقوں سے کسی بھلائی کی توقع محال ہے :۔
منافقوں کو جہاد صرف اس لیے ناگوار تھا کہ وہ اسلام اور اس کے مفادات کے مقابلہ میں اپنی جان اور مال کو عزیز تر سمجھتے تھے۔ یعنی ان کا اولین مقصد مال کا حصول اور اپنی جان کو بچانا تھا۔ ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر انہیں دنیا میں حکومت مل بھی جائے تو ان سے کسی بھلائی کی توقع نہیں جا سکتی یہ اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ملک میں فتنہ و فساد ہی برپا کریں گے۔ اور اس سلسلہ میں اپنے رشتہ داروں کے گلوں پر چھری پھیرنے سے باز نہیں آئیں گے۔ اور اگر ﴿تَوَلَيْتُمْ کا معنی پھر جانا اور اعراض کرنا لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اگر تم جہاد سے بدک کر اسلام سے پھر جاؤ تو تمہارے متعلق یہی توقع کی جا سکتی ہے کہ تم پر پھر اسلام سے ماقبل کی حالت عود کر آئے۔ انہی پہلی سی قبائلی جنگوں میں تم پڑ جاؤ جن سے نکلنے کی تمہیں کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی تم وہی پہلی سی لوٹ مار، قتل و غارت اور فتنہ و فساد کرنے لگو گے۔
قطع رحمی، ام ولد کی خرید و فروخت کی ممانعت :۔
اس آیت نیز قرآن کی بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قطع رحمی بہت بڑا گناہ کبیرہ ہے۔ اسی آیت کے حکم کو مد نظر رکھ کر سیدنا عمرؓ نے اپنی مجلس شوریٰ کے مشورہ سے ام الولد کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا تھا۔ چنانچہ سیدنا بریدہ کہتے ہیں کہ وہ ایک دن سیدنا عمرؓ کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ محلہ میں یکایک ایک شور مچ گیا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ایک لونڈی فروخت کی جا رہی ہے جبکہ اس لونڈی کی لڑکی کھڑی رو رہی ہے۔ سیدنا عمرؓ نے اسی وقت یہ مسئلہ اپنی شوریٰ میں پیش کر دیا تاکہ دیکھیں پوری شریعت میں ایسی قطع رحمی کا کوئی جواز نظر آتا ہے؟ سب نے نفی میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے بڑی قطع رحمی کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ ایک ماں کو اس کی بیٹی سے جدا کر دیا جائے؟ اس وقت آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اس مسئلہ کی روک تھام کے لیے آپ جو مناسب سمجھیں اختیار فرمائیں۔ چنانچہ آپ نے سارے بلاد اسلامیہ میں یہ فرمان جاری کر دیا کہ جس لونڈی سے مالک کی اولاد پیدا ہو جائے وہ اسے فروخت نہیں کر سکتا۔ اس روایت کو اگرچہ بعض مفسرین نے درج کیا ہے مگر اس کا حوالہ مذکور نہیں۔ علاوہ ازیں یہ روایت ویسے بھی درست معلوم نہیں ہوتی۔ کیونکہ ام الولد کی فروخت کی تحریم سنت نبوی سے ثابت ہے۔ اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جس شخص نے اپنی لونڈی سے مباشرت کی۔ پھر اس سے اس کا بچہ پیدا ہو گیا تو وہ لونڈی اس کے مرنے کے بعد آزاد ہو گی“ [احمد۔ ابن ماجہ۔ بحوالہ نیل الاوطار ج 6 ص 231]
2۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کے پاس ام ابراہیم (ماریہ قبطیہ) کا ذکر کیا۔ تو آپ نے فرمایا: ”اس کا بچہ اس کی آزادی کا سبب بن گیا“ [ابن ماجہ، دارقطنی بحوالہ ایضاً]
3۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی نے اولاد والی لونڈیوں کو بیچنے سے منع فرمایا اور کہا کہ وہ نہ بیچی جا سکتی ہیں نہ ہبہ کی جا سکتی ہیں اور نہ ترکہ میں شمار ہو سکتی ہیں۔ جب تک ایسی لونڈی کا مالک زندہ ہے وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور جب وہ مر جائے تو وہ لونڈی آزاد ہے۔ [موطا امام مالک، دارقطنی بحوالہ ایضاً]
ان احادیث میں موطا امام مالک اول درجہ کی کتب میں شمار ہوتی ہے۔ ابن ماجہ درجہ دوم اور دارقطنی درجہ سوم میں۔ تاہم یہ سب احادیث ایک دوسرے کی تائید کر رہی ہیں اور مرفوع ہیں۔ اور اس مسئلہ کے جملہ پہلوؤں پر روشنی ڈال رہی ہیں یعنی ایسی لونڈی کا مالک خود بھی اپنی زندگی میں اسے نہ فروخت کر سکتا ہے اور نہ ہبہ کر سکتا ہے۔