تو کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہے اس شخص کی طرح ہے جس کے لیے اس کے برے اعمال مزین کر دیے گئے اور انھوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی؟
En
بھلا جو شخص اپنے پروردگار (کی مہربانی) سے کھلے رستے پر (چل رہا) ہو وہ ان کی طرح (ہوسکتا) ہے جن کے اعمال بد انہیں اچھے کرکے دکھائی جائیں اور جو اپنی خواہشوں کی پیروی کریں
کیا پس وه شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل پر ہو اس شخص جیسا ہو سکتا ہے؟ جس کے لئے اس کا برا کام مزین کر دیا گیا ہو اور وه اپنی نفسانی خواہشوں کا پیرو ہو؟
En
14۔ بھلا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے ایک واضح دلیل [15] پر ہو اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جس کے برے عمل اسے خوشنما بنا کر دکھائے جا رہے ہوں اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہوں
[15] واضح دلیل سے مراد وہ صاف ستھرا راستہ ہے جو وحی الٰہی کی روشنی میں پوری طرح نظر آرہا ہو۔ یعنی ایک شخص تو پورے علم اور یقین کے ساتھ روشنی میں اپنی زندگی کا سفر طے کر رہا ہے۔ دوسرے کے پاس وہم و گمان کی تاریکیاں ہی تاریکیاں ہیں۔ وہ اپنے نفس کی خواہش کا پیروکار ہوتا ہے۔ اور دنیا کا زیادہ سے زیادہ مال کمانا ہی اس کی زندگی کا مقصد ہوتا ہے۔ اور اس مقصد کے حصول کے لیے جو بھی وہ جائز اور ناجائز ذرائع استعمال کرتا ہے سب اسے اچھے ہی نظر آتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ان دونوں آدمیوں کا طرز زندگی ایک جیسا ہو سکتا ہے؟ یا ان دونوں کا انجام ایک ہی جیسا ہونا چاہئے؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔