ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ محمد (47) — آیت 13

وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ ہِیَ اَشَدُّ قُوَّۃً مِّنۡ قَرۡیَتِکَ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَتۡکَ ۚ اَہۡلَکۡنٰہُمۡ فَلَا نَاصِرَ لَہُمۡ ﴿۱۳﴾
اور کتنی ہی بستیاں ہیں جو تیری اس بستی سے قوت میں زیادہ تھیں جس نے تجھے نکالا، ہم نے انھیں ہلاک کر دیا، پھر کوئی ان کا مددگار نہ تھا۔ En
اور بہت سی بستیاں تمہاری بستی سے جس (کے باشندوں نے تمہیں وہاں) سے نکال دیا زور وقوت میں کہیں بڑھ کر تھیں ہم نے ان کا ستیاناس کردیا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوا
En
ہم نے کتنی بستیوں کو جو طاقت میں تیری اس بستی سے زیاده تھیں جس سے تجھے نکالا ہم نے انہیں ہلاک کر دیا ہے، جن کا مددگار کوئی نہ اٹھا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے بڑھ کر طاقتور تھیں، جن (کے رہنے والوں) نے آپ کو نکال [14] دیا ہے۔ ہم نے انہیں ہلاک کیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔
[14] ہجرت کے وقت آپ کے الوداعی کلمات :۔
بظاہر کافروں نے آپ کو مکہ سے نکالا تھا۔ بلکہ انہوں نے تو سو اونٹ انعام بھی مقرر کیا تھا کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ کر لے آئے اسے سو اونٹ انعام دیا جائے گا۔ لیکن چونکہ ان کافروں نے آپ کو ایذائیں اور دکھ پہنچا پہنچا کر وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے نکالنے کے اصل سبب کی طرف نسبت فرمائی۔ جیسا کہ خود بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے نکلنے لگے تو نہایت حسرت سے مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے:”مکہ تو اللہ کے نزدیک بڑی عزت والا اور محبوب ہے اور مجھے بھی بہت محبوب ہے اگر تیرے باشندے مجھے یہاں سے نکل جانے پر مجبور نہ کر دیتے تو میں تجھے کبھی نہ چھوڑتا“ [ترمذی۔ ابو اب المناقب۔ باب فی فضل مکۃ]