11۔ یہ اس لئے کہ ایمان لانے والوں کا تو اللہ حامی ہے اور کافروں [12] کا کوئی بھی حامی نہیں۔
[12] غزوہ احد کے اختتام پر ابو سفیان کی نعرہ بازی اور اس کا جواب :۔
یعنی کافر یہ سمجھتے ضرور ہیں کہ ان کی دیویاں اور دیوتا ان کی مدد کو پہنچتے ہیں حالانکہ یہ محض ان کا وہم ہوتا ہے۔ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق و باطل کے معرکوں میں صرف غزوہ احد ہی وہ جنگ ہے جس میں ابتداء ً مسلمانوں کو ان کی اپنی ہی غلطی سے عارضی طور پر شکست سے دو چار ہونا پڑا اور آخر میں میدان برابر رہا۔ ابو سفیان نے اپنی اتنی سی کامیابی کو بھی غنیمت سمجھ کر اپنے سب سے بڑے دیوتا اور بت ہبل کا نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ ﴿اَعْلَيالهُبَل﴾ (ہبل سربلند ہوا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے کہا اسے یہ جواب دو! ﴿اَللّٰهُاَعْلٰيوَاَجَلّ﴾ (سر بلند تو صرف اللہ ہے اور وہی بزرگ و برتر ہے) پھر ابو سفیان نے کہا: ﴿لنا عُزّٰي ولا عُزّٰي لكم﴾ (ہمارے لیے تو عزت دینے والی دیوی عزیٰ ہے اور تمہارے لیے کوئی عزیٰ نہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا: ﴿اَللُّهُمولٰنَاوَلَامَولٰيلَكُم﴾ (ہمارا تو اللہ حامی و ناصر ہے لیکن تمہارا کوئی حامی و ناصر نہیں) آپ کا جواب اسی آیت کی تفسیر تھا۔ چنانچہ ہوا بھی ایسا ہی۔ ابو سفیان جب احد کے میدان کو چھوڑ کر کئی میل مکہ کی طرف جا چکا تو اسے خیال آیا کہ اس جنگ کا فیصلہ تو کچھ بھی نہ ہوا لہٰذا واپس جا کر مسلمانوں پر دوبارہ حملہ کر کے اسے نتیجہ خیز بنانا چاہئے۔ لیکن اللہ نے مسلمانوں کی نصرت کا یہ سبب پیدا کر دیا کہ مسلمان خود اس سے پہلے ہی ابو سفیان کے لشکر کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے۔ جب ابو سفیان کو یہ صورت حال معلوم ہوئی تو اللہ نے کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور انہوں نے مکہ کی راہ لی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔