ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ محمد (47) — آیت 1

اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ صَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَضَلَّ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۱﴾
وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا ،اس نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔ En
جن لوگوں نے کفر کیا اور (اَوروں کو) خدا کے رستے سے روکا۔ خدا نے ان کے اعمال برباد کر دیئے
En
جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راه سے روکا اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیئے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ جن لوگوں نے کفر کیا اور (دوسروں کو) اللہ کی راہ [1،2] سے روکا اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل ضائع کر دیئے
[1] سورۃ محمدﷺ کے نزول کا پس منظر :۔
سورۃ محمد ان ابتدائی سورتوں میں سے ہے جو ہجرت کے بعد مدینہ میں نازل ہوئیں۔ مکہ میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے دشمن صرف قریش تھے۔ لیکن مدینہ جانے کے بعد جب مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی ریاست بھی قائم ہو گئی تو مسلمانوں کے دشمنوں میں اضافہ ہو گیا۔ قریش مکہ نے بھی اپنی دشمنی ترک نہیں کی۔ یہود سے اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ جاتے ہی ایک دفاعی سمجھوتہ کر لیا تھا لیکن یہود ایک عہد شکن قوم ہے۔ ان کی ساز باز قریش مکہ کے ساتھ رہتی تھی اور قریش مکہ بھی اس دفاعی سمجھوتہ کے باوجود انہیں اپنا ہی حلیف سمجھتے تھے۔ منافقین بھی مسلمانوں کے لیے مار آستین بنے ہوئے تھے اور درپردہ ان کی سب ہمدردیاں یہود کے ساتھ تھیں اور یہ اس لحاظ سے بھی خطرناک تھے کہ مسلمانوں کے راز اور تدبیروں سے یہود اور دوسرے دشمنوں کو باخبر رکھتے تھے۔ علاوہ ازیں ارد گرد کے مشرک قبائل عرب بھی اس چھوٹی سی نئی مسلم ریاست کا وجود برداشت کرنے کو تیار نہ تھے۔
مدینہ پہنچنے کے بعد پیدا ہونے والے شدید مسائل اور صرف دو ہی راستے :۔
مدینہ پہنچ کر مسلمانوں کو یہ فائدہ تو ہو گیا کہ اب وہ آزادی کے ساتھ قرآن پڑھ سکتے، ارکان اسلام بجا لاتے اور علی الاعلان تبلیغ کر سکتے تھے۔ مگر یہاں آکر وہ اندر اور باہر کے چاروں طرف کے دشمنوں کے نرغہ میں گھرے ہوئے تھے۔ مہاجرین کی آباد کاری اور معاشی پریشانیوں کا مسئلہ الگ تھا۔ ان حالات میں مسلمانوں کے لیے بس دو ہی راستے تھے ایک یہ کہ ان مشکلات سے گھبرا کر کفر کے آگے گھٹنے ٹیک دیں اور دوسرا یہ کہ سر دھڑ کی بازی لگا کر کفر کے مقابلہ میں ڈٹ جائیں اور اللہ پر توکل کریں۔ اسی پس منظر میں یہ سورۃ نازل ہوئی، مسلمانوں کو تسلی بھی دی گئی۔ اور اللہ پر توکل رکھتے ہوئے قتال فی سبیل اللہ کی ترغیب دی گئی ہے۔
[2] ﴿صدّ﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿صَدَّ کا لفظ لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ اس کا معنی اعراض کرنا اور خود رک جانا بھی ہے۔ اور دوسروں کو روکنا بھی۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا۔ پھر کفر کی حمایت میں دوسروں کو اسلام لانے سے روکتے رہے۔ مسلمانوں کو ایذائیں اور دکھ پہنچانے اور اسلام کی اشاعت کو روکنے کے لیے خفیہ تدبیریں اور سازشیں تیار کرتے رہے اور معاندانہ سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے۔ ان کی یہ سرگرمیاں یہاں بے نتیجہ اور بے اثر ثابت ہوں گی۔ اور وہ اپنی ان کوششوں میں ناکام رہیں گے۔ اللہ ان کی کوششوں کو برباد کر دے گا اور کبھی بار آور نہ ہونے دے گا۔