ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 5

وَ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَنۡ لَّا یَسۡتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ وَ ہُمۡ عَنۡ دُعَآئِہِمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴿۵﴾
اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا انھیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بے خبر ہیں۔ En
اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہ دے سکے اور ان کو ان کے پکارنے ہی کی خبر نہ ہو
En
اور اس سے بڑھ کر گمراه اور کون ہوگا؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کر سکیں بلکہ ان کے پکارنے سے محض بےخبر ہوں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ اور اس شخص سے بڑھ کر اور کون گمراہ ہو گا جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکارتا ہے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے [6] سکتے بلکہ وہ ان کی پکار سے ہی بے خبر ہیں
[6] استجاب کے دو معنی اور مشرکوں کا رد :۔
یہاں استجاب کا لفظ دو قسم کے معنی دے رہا ہے اور دونوں ہی اس لفظ کے مفہوم میں شامل ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ جو سن ہی نہیں سکتا وہ جواب کیا دے گا؟ جیسے کسی پتھر یا درخت سے یہ پوچھا جائے کہ مثلاً لاہور کس طرف ہے؟ تو جب وہ سنتا ہی نہیں تو جواب کیا دے سکتا ہے۔ اور اس لفظ کا دوسرا معنی کسی کی دعا یا پکار کو سن کر اس کو قبول کرنا اور اس پر عمل درآمد کرنا ہے۔ مثلاً میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اس بیماری سے شفا دے اور اللہ تعالیٰ واقعی میری پکار کو شرف قبولیت بخشتا ہے اور میری بیماری دور کر دیتا ہے تو میں کہوں گا میری دعا مستجاب ہو گئی۔ اس سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ یہاں معبودوں سے مراد بے جان قسم کے معبود بھی ہیں۔ جو سن ہی نہیں سکتے اور جاندار بھی مثلاً فرشتے، جن اور زندہ بزرگ وغیرہ جو سن تو سکتے ہیں مگر اس دعا یا درخواست پر عمل درآمد کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ اور مشرکوں کی گمراہی اور انتہائی گمراہی یہ ہے کہ وہ اپنی درخواست اس چیز یا ہستی کے سامنے پیش کرتے ہیں جن پر عملدرآمد اس کے دائرہ اختیار میں ہے ہی نہیں۔ اس کی معمولی سی مثال یہ سمجھئے کہ ایک شخص اپنے گھر میں ٹیلیفون لگوانا چاہتا ہے لیکن وہ اپنی درخواست محکمہ پولیس کو بھیج دیتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس بے وقوف کی درخواست پر کبھی عمل درآمد نہ ہو سکے گا۔ بالکل یہ مثال ان مشرکوں کی ہے جو اللہ کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں۔