انھوں نے کہا اے ہماری قوم! بے شک ہم نے ایک ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے، وہ حق کی طرف اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
En
کہنے لگے کہ اے قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ جو (کتابیں) اس سے پہلے (نازل ہوئی) ہیں ان کی تصدیق کرتی ہے (اور) سچا (دین) اور سیدھا رستہ بتاتی ہے
کہنے لگے اے ہماری قوم! ہم نے یقیناً وه کتاب سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو سچے دین کی اور راه راست کی طرف رہنمائی کرتی ہے
En
30۔ کہنے لگے: ”اے ہماری قوم! ہم نے ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل [44] ہوئی ہے، وہ اپنے سے پہلے کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، حق کی طرف اور سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
[44] یہ جن پہلے تورات پر ایمان لا چکے تھے :۔
جنوں نے سیدنا موسیٰؑ پر نازل شدہ کتاب تورات کا نام لیا انجیل کا نام نہیں لیا۔ اس لیے سابقہ آسمانی کتابوں میں سے کوئی کتاب احکام و شرائع کے لحاظ سے تورات جیسی جامع اور اس کے ہم پلہ نہیں تھی۔ اسی پر علمائے بنی اسرائیل کا عمل رہا۔ خود سیدنا عیسیٰؑ نے بھی یہی فرمایا تھا کہ میں تورات کو بدلنے نہیں آیا بلکہ اس کی تکمیل کرنے آیا ہوں۔ اور سیدنا سلیمان کے وقت سے جنوں میں تورات ہی مشہور چلی آتی تھی۔ نیز خود تورات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے متعلق جو پیشین گوئی مذکور ہے اس کے الفاظ یہ ہیں کہ (اے موسیٰ) میں تیری مانند ایک نبی بھیجوں گا اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ جن پہلے تورات اور کتب سماویہ پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ جب قرآن سنا تو انہیں فوراً معلوم ہو گیا کہ یہ وہی تعلیم ہے جو سابقہ انبیاء دیتے چلے آرہے ہیں۔ لہٰذا وہ فوراً ایمان لے آئے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔