ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 3

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ﴿۳﴾
بلاشبہ آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔ En
بےشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں
En
آسمانوں اور زمین میں ایمان داروں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ بلا شبہ آسمانوں اور زمین میں ایمان [2] لانے والوں کے لئے کئی نشانیاں ہیں
[2] توحید کے دلائل :۔
تمہید کے بعد توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال پر دلائل کا آغاز ہوا ہے۔
توحید کی پہلی نشانی، کائنات کا نظم و نسق :۔
پہلی دلیل یہ کائنات اور اس کا نظام ہے اسی کے ایک پہلو پر ہی اگر غور کر لیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ اس میں الگ الگ خداؤں کی خدائی چلنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ بادلوں کا دیوتا کوئی اور ہو، ہواؤں کا کوئی دوسرا ہو، بارشوں کا کوئی تیسرا ہو، سورج کا کوئی اور ہو۔ اگر ایسی بات ہوتی تو اس کائنات کے نظام میں کبھی باقاعدگی اور ہم آہنگی برقرار نہیں رہ سکتی تھی۔ مگر اس کائنات میں ایسی نشانیاں تو اس شخص کے لیے ہی سود مند ہو سکتی ہیں جو خود ہدایت کا طالب ہو اور اللہ کی معرفت حاصل کرنا چاہتا ہو۔ لیکن جو اللہ کی ہستی اور اس کی قدرت پر ایمان ہی نہ لانا چاہتا ہو۔ اس کے لیے اس میں کوئی نشانی نہیں۔