ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 21

اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ اجۡتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنۡ نَّجۡعَلَہُمۡ کَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَآءً مَّحۡیَاہُمۡ وَ مَمَاتُہُمۡ ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ ﴿٪۲۱﴾
یا وہ لوگ جنھوں نیبرائیوں کا ارتکاب کیا، انھوں نے گمان کر لیا ہے کہ ہم انھیں ان لوگوں کی طرح کر دیں گے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے؟ ان کا جینا اور ان کا مرنا برابر ہو گا؟ برا ہے جو وہ فیصلہ کر رہے ہیں۔ En
جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ان کی زندگی اور موت یکساں ہوگی۔ یہ جو دعوے کرتے ہیں برے ہیں
En
کیا ان لوگوں کا جو برے کام کرتے ہیں یہ گمان ہے کہ ہم انہیں ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان ﻻئے اور نیک کام کیے کہ ان کا مرنا جینا یکساں ہوجائے، برا ہے وه فیصلہ جو وه کررہے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

21۔ جو لوگ بد اعمالیاں کر رہے ہیں کیا وہ یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم انہیں اور ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا [29] کر دیں گے کہ ان کا جینا [30] اور مرنا [31] یکساں ہو گا یہ کیسا برا فیصلہ کر رہے ہیں
[29] آخرت پر عدل کے تقاضا سے دلیل :۔
یہ ان لوگوں کا حال ہے جو روز آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔ روز آخرت پر یقین نہ رکھنے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی اخلاقی پابندی کا پابند نہیں رہ سکتا۔ وہ بے لگام ہو کر اور بلاخوف و خطر دوسروں کے حقوق پامال کرنے لگتا ہے اور صرف اپنے ہی مفادات سوچنے کے درپے ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ بد کرداروں اور نیک عمل کرنے والوں کا انجام ایک ہی جیسا ہونا چاہئے کہ سب مر کر مٹی میں مل کر مٹی بن جائیں اور کسی سے اس کے اعمال کی باز پرس نہ ہو نہ ہی انہیں ان کے اعمال کا اچھا یا برا بدلہ دیا جائے؟ کیا تم پروردگار عالم سے یہی توقع رکھتے ہو کہ وہ ایسی بے انصافی کو گوارا کرے گا؟ اگر فی الواقع تمہارا یہی گمان ہے تو اللہ کے متعلق تمہارا یہ گمان بہت برا ہے۔
[30] بد کردار اور نیکوکار کی، دنیوی زندگی کا تقابل :۔
ان کا جینا کبھی ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمانبرداروں کو حیات طیبہ نصیب ہوتی ہے۔ لوگ ان کی عزت کرتے اور ان کی راستبازی پر اعتماد کرتے ہیں۔ انہیں دنیا کی زندگی میں سکھ اور چین نصیب ہوتا ہے۔ دل مطمئن رہتا ہے۔ اس کے برعکس فریب کاروں، چوروں، ڈاکوؤں، زانیوں اور شراب خوروں کو کبھی حقیقی مسرت حاصل نہیں ہوتی۔ لوگوں میں بد نام ہوتے ہیں، ضمیر ملامت کرتا ہے۔ کوئی شخص دل سے کبھی ان کی عزت نہیں کرتا۔ مقدمات اور حکومت کا ڈر الگ رہتا ہے۔ غرض کہ بد کاروں کی دنیوی زندگی بھی تلخیوں اور بے چینیوں میں گزرتی ہے۔ موت کا وقت مقرر ہے اس سے پہلے کیسے مر جاتے ہیں۔ پھر ان دونوں کی زندگی ایک جیسی کیسے ہوئی؟
[31] اگر ان کی زندگی ایک جیسی نہیں تو یقین جانو کہ مرنا بھی ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔ دنیوی مقدمات کا نتیجہ نکل کے رہے گا۔ یہ ناممکن ہے کہ دونوں طرح کے انسان مر کر مٹی میں مل کر مٹی بن جائیں۔ کسی سے کوئی باز پرس نہ ہو۔ نہ نیک لوگوں کو ان کے اچھے اعمال کا بدلہ دیا جائے نہ بد کاروں کو سزا دی جائے اور یہ معاد پر پہلی عقلی دلیل ہے جو اللہ کی صفت عدل کے تقاضا کے مطابق ہے۔