ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 2

تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۲﴾
اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
اس کتاب کا اُتارا جانا خدائے غالب (اور) دانا (کی طرف) سے ہے
En
یہ کتاب اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے [1] جو زبردست اور حکمت والا ہے۔
[1] بطور تمہید سب سے پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ یہ کتاب کسی انسان کی تالیف یا اختراع نہیں ہے بلکہ اس اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے جو سب پر غالب ہے۔ اور اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے کوئی اس کے فیصلوں میں نہ دخل دے سکتا ہے اور نہ روک سکتا ہے۔ نیز وہ حکیم بھی ہے۔ اس کے فیصلوں اور احکام میں کسی جھول اور غلطی کا امکان نہیں ہوتا۔ اس کے تمام فیصلے اور احکام بنی نوع انسان کے مصالح پر مبنی ہوتے ہیں۔