ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 19

اِنَّہُمۡ لَنۡ یُّغۡنُوۡا عَنۡکَ مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ۚ وَ اللّٰہُ وَلِیُّ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۹﴾
بلاشبہ وہ اللہ کے مقابلے میں ہرگز تیرے کسی کام نہ آئیں گے اور یقینا ظالم لوگ، ان کے بعض بعض کے دوست ہیں اور اللہ متقی لوگوں کا دوست ہے۔ En
یہ خدا کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے۔ اور ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں۔ اور خدا پرہیزگاروں کا دوست ہے
En
(یاد رکھیں) کہ یہ لوگ ہرگز اللہ کے سامنے آپ کے کچھ کام نہیں آسکتے۔ (سمجھ لیں کہ) ﻇالم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہوتے ہیں اور پرہیزگاروں کا کارساز اللہ تعالیٰ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ یہ لوگ اللہ کے مقابلہ میں آپ کے کچھ کام نہ آ سکیں [26] گے۔ بلا شبہ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی [27] ہیں اور پرہیزگاروں کا دوست اللہ ہے۔
[26] اگر آپ ان میں سے کسی فرقہ کے موقف کی حمایت کر دیں گے تو اس دنیا میں تو شاید وہ آپ کا حامی بن جائے گا لیکن قیامت کے دن وہ آپ کے کسی کام نہ آسکیں گے وہ تو خود اپنی گمراہیوں کے عذاب میں ماخوذ ہوں گے، دوسروں کے کیا کام آئیں گے؟
[27] یعنی حق کے مقابلہ میں سب بے انصاف اور ظالم لوگ مل بیٹھتے ہیں اور آپس میں اتحاد کر لیتے ہیں۔ اگرچہ ان میں خاصے باہمی اختلافات موجود ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں اللہ کے فرمانبرداروں اور اس سے ڈرنے والوں کا حامی و ناصر صرف اللہ ہوتا ہے جو ان کے سب کام سیدھے کئے جاتا ہے اور اس کی یہ کارسازی دائمی اور پائیدار ہے جو اس دنیا سے آگے آخرت میں بھی برقرار رہے گی۔