ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 17

وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ ۚ فَمَا اخۡتَلَفُوۡۤا اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ ۙ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ اِنَّ رَبَّکَ یَقۡضِیۡ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۷﴾
اور انھیں (دین کے) معاملے میں واضح احکام عطا کیے، پھر انھوںنے اختلاف نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آگیا، آپس میں ضد کی وجہ سے،بے شک تیرا رب ان کے درمیان قیامت کے دن اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔ En
اور ان کو دین کے بارے میں دلیلیں عطا کیں۔ تو انہوں نے جو اختلاف کیا تو علم آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے کیا۔ بےشک تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے فیصلہ کرے گا
En
اور ہم نے انہیں دین کی صاف صاف دلیلیں دیں، پھر انہوں نے اپنے پاس علم کے پہنچ جانے کے بعد آپس کی ضد بحﺚ سے ہی اختلاف برپا کر ڈاﻻ، یہ جن جن چیزوں میں اختلاف کر رہے ہیں ان کا فیصلہ قیامت والے دن ان کے درمیان (خود) تیرا رب کرے گا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ نیز انہیں دین کے واضح احکام [22] دیئے۔ پھر جو انہوں نے اختلاف کیا تو (لاعلمی کی بنا پر نہیں بلکہ) علم آجانے کے بعد کیا اور اس کی وجہ ایک دوسرے [23] پر زیادتی کرنا تھی۔ اور جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے تھے، قیامت کے دن آپ کا پروردگار ان کے درمیان [24] فیصلہ کر دے گا۔
[22] یہاں امر سے مراد اقامت دین ہے۔ کہ اللہ کے دین کو دنیا میں قائم اور نافذ کرنے کے لیے انہیں تمام ہدایات دے دی گئی تھیں اور یہ ہدایت بالکل واضح تھیں۔
[23] فرقہ بازی کی اصل وجوہ نفسانی خواہشات :۔
یعنی اختلافات یا تفرقہ بازی کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ کسی اختلاف کا فیصلہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح ہدایات موجود نہیں ہوتیں اور معاملہ اختلافی بن جاتا ہے۔ بلکہ ان اختلافات اور تفرقہ بازی کی وجوہ کچھ اور ہی ہوتی ہیں۔ ان وجوہ کو پوری طرح سمجھنے کے لیے مسلمانوں کے موجودہ فرقوں پر ہی نظر ڈال لیجئے۔ کتاب و سنت ایک ہی ہے۔ اور وہ سب فرقوں کے پاس موجود ہے اور ہر فرقہ کتاب و سنت سے ہی استدلال کر کے اپنے فرقہ کے مخصوص عقائد و اعمال کو برحق ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر کوئی تو کتاب اللہ کی غلط سلط تاویل کر کے اسے اپنے نظریہ کے مطابق بنا لیتا ہے۔ کوئی کتاب و سنت کو اپنے اماموں کے اقوال کے تحت رکھ کر ان سے وہی مفہوم اخذ کرتا ہے جو اس کے امام کے قول کے مطابق ہو۔ پھر اس میں اپنے اپنے ذاتی مفادات یعنی طلب مال اور جاہ کا حصول بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ ہر ایک کو اپنا اپنا جھنڈا بلند رکھنے کی فکر ہوتی ہے۔ پھر فرقوں کی آپس میں باہمی کھینچا تانی اور ضدم ضدی سے ان میں اختلافات کی خلیج مزید وسیع ہوتی جاتی ہے۔ پھر کچھ اختلافات مذہبی قسم کے ہوتے ہیں اور کچھ سیاسی قسم کے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کتاب و سنت ایک ہونے کے باوجود امت مسلمہ بیسیوں فرقوں میں بٹ گئی ہے۔ یہی حال بنی اسرائیل کا تھا۔
[24] کوئی بھی تعصب چھوڑنا گوارا نہیں کرتا :۔
یہ فرقے اپنے اپنے مخصوص نظریات و عقائد میں اس قدر متشدد ہو جاتے ہیں اور اس قدر تعصب ان میں پیدا ہو جاتا ہے کہ ان کے لیے اختلاف کو ختم کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس دنیا میں تو وہ کبھی ان اختلافات کو چھوڑنا تو درکنار، یہ سننے کے لیے بھی آمادہ نہیں ہوتے کہ ان کا فلاں عقیدہ یا فلاں مسئلہ کتاب و سنت کی رو سے غلط ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان پر خوب واضح کر دے گا کہ میں نے تو یہ حکم اس طرح دیا تھا اور تم نے اس حکم کے الفاظ کو غلط جامہ پہنچا کر اپنا الو سیدھا کر لیا تھا یا تمہارے اختلاف کی اصل وجہ دین کی اشاعت نہ تھی بلکہ اصل وجہ یہ تھی۔ پھر اس وقت وہ اللہ کے فیصلہ کے سامنے چوں و چرا تک نہ کر سکیں گے۔