ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 14

قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یَغۡفِرُوۡا لِلَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ اَیَّامَ اللّٰہِ لِیَجۡزِیَ قَوۡمًۢا بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾
ان لوگوں سے جو ایمان لائے کہہ دے کہ وہ ان لوگوں کو معاف کر دیں جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے، تاکہ وہ کچھ لوگوں کو اس کا بدلہ دے جو وہ کماتے رہے تھے۔ En
مومنوں سے کہہ دو کہ جو لوگ خدا کے دنوں کی (جو اعمال کے بدلے کے لئے مقرر ہیں) توقع نہیں رکھتے ان سے درگزر کریں۔ تاکہ وہ ان لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلے دے
En
آپ ایمان والوں سے کہہ دیں کہ وه ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے دنوں کی توقع نہیں رکھتے، تاکہ اللہ تعالیٰ ایک قوم کو ان کے کرتوتوں کا بدلہ دے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں آپ انہیں کہہ دیجئے کہ جو لوگ اللہ کی طرف سے برے [18] دن آنے کی توقع نہیں رکھتے ان سے درگزر [19] کر دیں تاکہ اللہ خود اس قوم کو اس کی کمائی کا بدلہ دے۔
[18] ایام اللہ کا مفہوم اور تذکیر بایام اللہ :۔
ایام اللہ کا لفظی اور لغوی معنی صرف ”اللہ کے دن“ ہے۔ مگر اس سے مراد عموماً وہ دن لیے جاتے ہیں جو کسی قوم کے تاریخی یادگار دن ہوں۔ اور یہ اچھے بھی ہو سکتے ہیں اور برے بھی۔ بلکہ بسا اوقات وہی دن ایک کے لیے برے اور دوسرے کے لیے اچھے ہوتے ہیں۔ مثلاً جس دن فرعون اور آل فرعون غرق ہوئے تو یہ دن ان کے لیے سب سے برا دن تھا لیکن وہی دن بنی اسرائیل کے لیے سب سے اچھا دن تھا کہ انہیں فرعون جیسے ظالم اور جابر حکمران سے نجات نصیب ہوئی۔ اور عرفاً ایام اللہ سے مراد عموماً برے ہی دن لیے جاتے ہیں۔ ’تذکیر بایام اللہ‘ ایک شرعی اصطلاح ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جن جن قوموں پر اللہ کا عذاب آیا تھا اس کی وجوہ تلاش کر کے انسان ان واقعات سے عبرت اور سبق حاصل کرے۔ اور یہ قرآن کا ایک نہایت اہم موضوع ہے۔ اور بار بار اس کا ذکر ہوا ہے۔
[19] اس سے مراد کفار مکہ ہیں۔ جو نہ اللہ کا عذاب آنے پر یقین رکھتے ہیں، نہ آخرت پر، بلکہ اللہ کے عذاب کے وعدوں کا مذاق اڑاتے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے کہ جس عذاب کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو وہ لے کیوں نہیں آتے؟ ایسے ہی لوگوں کے متعلق مومنوں کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ وہ ان کی باتوں کا برا نہ منائیں۔ ان سے الجھیں نہیں۔ بلکہ درگزر سے کام لیں۔ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ وہ خود ان سے نمٹ لے گا اور ان کے اعمال کی انہیں پوری پوری سزا دے گا۔ اس آخری جملہ کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر مومن صبر اور برداشت سے کام لیتے ہوئے ان کافروں سے درگزر کریں گے تو اللہ انہیں اس کا پورا پورا بدلہ دے گا۔