ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الدخان (44) — آیت 6

رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ۙ﴿۶﴾
تیرے رب کی رحمت کے باعث، یقینا وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
(یہ) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے۔ وہ تو سننے والا جاننے والا ہے
En
آپ کے رب کی مہربانی سے۔ وه ہی ہے سننے واﻻ جاننے واﻻ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ اور یہ آپ کے پروردگار کی رحمت کی بنا [4] پر تھا بلا شبہ وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے
[4] آپ رحمۃ للعالمین تھے :۔
یعنی تمام اہل عالم کے لئے ایک خبردار کرنے والا رسول بھیجنا صرف ہماری حکمت کا ہی تقاضا نہ تھا بلکہ یہ اہل عالم پر ہماری رحمت کا بھی تقاضا تھا۔ وہ لوگوں کی پکار اور فریاد بھی سنتا ہے اور ان کے حالات کو جانتا بھی ہے۔ اسی لیے اس نے عین ضرورت کے مطابق خاتم النبییّن صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن دے کر اور تمام اہل عالم کے لیے رحمت کبریٰ بنا کر مبعوث فرمایا۔ تاکہ کفر و شرک کی گمراہیوں میں پھنسی اور ظلم و جور میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو سیدھی راہ دکھا دی جائے کہ کس طرح وہ اپنی باہمی نہ ختم ہونے والی لڑائیوں، لوٹ مار اور قتل و غارت سے نجات حاصل کر کے دنیا میں امن و چین کے ساتھ زندگی بسر کر سکتے ہیں۔