42۔ مگر جس پر اللہ نے رحم کر دیا۔ کیونکہ وہ ہر چیز [31] پر غالب اور رحم [32] کرنے والا ہے۔
[31] یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کسی کے حق میں جو فیصلہ کر دے گا وہ نافذ ہو کے رہے گا اور اس کی کہیں اپیل بھی نہ ہو سکے گی کیونکہ وہی سب پر غالب ہے۔ [32] یعنی وہ فیصلہ کرتے وقت کسی پر رحم تو کر سکتا ہے۔ مگر کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں کر سکتا کیونکہ یہ بات اس کی صفت عدل کے خلاف ہے۔ وہ یہ تو کر سکتا کہ ایک قصوروار کو معاف کر دے یا اس کے جرم سے کم سزا دے یا اس کے عمل سے بہت زیادہ بدلہ دے دے اور بیشتر مقدمات میں وہ اپنی اسی صفت رحیمیت کا ہی مظاہرہ کرے گا۔ سزا صرف ان لوگوں کو دے گا جنہوں نے شرک کیا ہو۔ یا از راہ تکبر دعوت حق کو ٹھکرا دیا ہو اور پھر معاندانہ سرگرمیوں میں ہی لگے رہے ہوں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔