4۔ اس رات ہمارے حکم سے ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ کر دیا [3] جاتا ہے
[3] ﴿ليلة القدر﴾ کو کس قسم کے فیصلے ہوتے ہیں؟
یعنی جس رات قرآن کا نزول ہوا اس رات آئندہ سال میں دنیا پر واقع ہونے والے اہم امور کے نہایت ٹھوس اور پائیدار فیصلے کر کے فرشتوں کے حوالہ کر دیئے جاتے ہیں۔ اور یہ فیصلے سراسر حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور اسی مضمون کو سورۃ القدر میں یوں بیان فرمایا کہ ”اس رات ملائکہ اور جبرئیل اپنے پروردگار کے اذن سے ہر طرح کا حکم لے کر اترتے ہیں“ [97: 4] اس آیت سے معلوم ہوا کہ کائنات کے نظم و نسق کے بارے میں یہ ایک ایسی رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ افراد، اقوام اور ملکوں کی قسمتوں کے فیصلے کر کے اپنے فرشتوں کے حوالہ کر دیتا ہے۔ پھر وہ انہی فیصلوں کے مطابق عمل درآمد کرتے رہتے ہیں۔ یعنی افراد یا اقوام کی زندگی اور موت، فتح و شکست، عروج و زوال، قحط اور ارزانی اور رزق وغیرہ سے متعلق فیصلے اسی رات میں کر دیئے جاتے ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔