ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الدخان (44) — آیت 20

وَ اِنِّیۡ عُذۡتُ بِرَبِّیۡ وَ رَبِّکُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ ﴿۫۲۰﴾
اور بے شک میں اپنے رب اور تمھارے رب کی پناہ پکڑتا ہوں، اس سے کہ تم مجھے سنگسار کر دو۔ En
اور اس (بات) سے کہ تم مجھے سنگسار کرو اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں
En
اور میں اپنے اور تمہارے رب کی پناه میں آتا ہوں اس سے کہ تم مجھے سنگسار کردو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ اور میں نے اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے لی کہ تم مجھے [15] سنگسار کر سکو
[15] فرعون کا سیدنا موسیٰؑ کو قتل کرنے کا ارادہ :۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب اندر ہی اندر سیدنا موسیٰؑ کی دعوت پھیل رہی تھی۔ بنی اسرائیل کے علاوہ قوم فرعون کے بھی بہت سے آدمی درپردہ سیدنا موسیٰؑ پر ایمان لا چکے تھے اور فرعون کو اپنی سلطنت کے چھن جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا اور اس نے اپنے درباریوں سے اور قوم کے لوگوں سے کہا تھا کہ ”مجھے چھوڑو میں موسیٰ کو قتل کئے دیتا ہوں ورنہ وہ تمہارا دین بھی تباہ کر دے گا اور ملک میں سخت بد امنی پھیلا دے گا“ اس کے جواب میں موسیٰؑ نے فرمایا کہ میں اپنے پروردگار کی پناہ میں آچکا ہوں۔ لہٰذا تم میرا بال بھی بیکا نہ کر سکو گے۔ مجھے رجم کرنا تو دور کی بات ہے۔