ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الدخان (44) — آیت 18

اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰہِ ؕ اِنِّیۡ لَکُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِیۡنٌ ﴿ۙ۱۸﴾
یہ کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو، بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔ En
(جنہوں نے) یہ (کہا) کہ خدا کے بندوں (یعنی بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کردو میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں
En
کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو، یقین مانو کہ میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ (جس نے کہا کہ) اللہ کے بندوں کو میرے حوالے [13] کر دو۔ میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں
[13] سیدنا موسیٰؑ کا فرعون سے مطالبہ :۔
اس آیت کے دو مطلب یہ ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے اور قرآن میں متعدد مقامات پر مذکور ہے کہ موسیٰؑ کا فرعون سے پہلا مطالبہ یہ تھا کہ میں اللہ کا رسول ہوں لہٰذا مجھ پر ایمان لاؤ اور دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ قوم بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر کے میرے ہمراہ روانہ کردو۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ”اے اللہ کے بندو! میرا حق مجھے ادا کرو“ یعنی میری بات مانو اور مجھ پر ایمان لاؤ۔ یہ اللہ کی طرف سے تم پر میرا حق ہے۔ اور مابعد کا جملہ کہ ”میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں“ اس دوسرے مطلب سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔