18۔ (جس نے کہا کہ) اللہ کے بندوں کو میرے حوالے [13] کر دو۔ میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں
[13] سیدنا موسیٰؑ کا فرعون سے مطالبہ :۔
اس آیت کے دو مطلب یہ ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے اور قرآن میں متعدد مقامات پر مذکور ہے کہ موسیٰؑ کا فرعون سے پہلا مطالبہ یہ تھا کہ میں اللہ کا رسول ہوں لہٰذا مجھ پر ایمان لاؤ اور دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ قوم بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر کے میرے ہمراہ روانہ کردو۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ”اے اللہ کے بندو! میرا حق مجھے ادا کرو“ یعنی میری بات مانو اور مجھ پر ایمان لاؤ۔ یہ اللہ کی طرف سے تم پر میرا حق ہے۔ اور مابعد کا جملہ کہ ”میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں“ اس دوسرے مطلب سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔