ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الدخان (44) — آیت 14

ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡہُ وَ قَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ ﴿ۘ۱۴﴾
پھر انھوں نے اس سے منہ پھیر لیا اور انھوں نے کہا سکھلایا ہوا ہے، دیوانہ ہے۔ En
پھر انہوں نے ان سے منہ پھیر لیا اور کہنے لگے (یہ تو) پڑھایا ہوا (اور) دیوانہ ہے
En
پھر بھی انہوں نے ان سے منھ پھیرا اور کہہ دیا کہ سکھایا پڑھایا ہوا باؤﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ پھر ان لوگوں نے اس (رسول) سے منہ پھیر لیا اور کہنے لگے: یہ تو سکھایا پڑھایا [9] دیوانہ ہے
[9] یعنی کبھی تو کہتے تھے کہ کوئی عجمی اسے قرآن سکھا جاتا ہے پھر وہ سے اپنی طرف سے ہم پر پیش کر کے کہتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے جو مجھ پر نازل ہوا ہے۔ اور جب آپ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ اگر تم لوگ اللہ کی دعوت پر ایمان لے آؤ تو تم عرب و عجم کے مالک بن جاؤ گے۔ تو آپ کو دیوانہ کہنے لگتے تھے۔ گویا یہ دونوں الگ الگ مواقع پر کافروں کے الزامات ہیں۔ جو یہاں اکٹھے کر دیئے گئے ہیں۔