86۔ یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہیں وہ سفارش کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے الا یہ کہ جس نے علم و یقین [78] کے ساتھ حق کی گواہی دی
[78] سفارش کی اجازت کیسے لوگوں کو ہو گی اور کن کے حق میں ہو گی؟
یعنی ایسے معبود جن کو لوگوں نے معبود قرار دے لیا تھا حالانکہ وہ علیٰ وجہ البصیرت حق کے گواہ اور اس کے علمبردار تھے، وہ سفارش کر سکیں گے۔ جیسے سیدنا عیسیٰؑ یا سیدنا عزیرؑ یا فرشتے یا وہ بزرگ جنہیں لوگوں نے الوہیت کا مقام دے رکھا تھا مگر وہ خود ساری عمر شرک سے منع کرتے رہے اور کلمہ حق یعنی توحید کے علمبردار بنے رہے ایسے لوگوں کو اللہ سفارش کرنے کی اجازت دے گا مگر ان لوگوں کی نہیں جنہوں نے انہیں معبود بنا رکھا تھا بلکہ صرف ان گنہگاروں کے حق میں سفارش کر سکیں گے جنہوں نے کلمہ حق یعنی توحید کی علم و یقین کے ساتھ شہادت دی ہو گی اور ان سے کچھ گناہ بھی سرزد ہو گئے ہوں گے۔ ضمناً اس سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ گواہی وہی معتبر ہو سکتی ہے جس کی بنیاد علم و یقین پر ہو۔ اور مشرک جو اپنے معبودوں کے معبود ہونے پر گواہی دیتے ہیں۔ چونکہ اس گواہی کی بنیاد نہ علم (یعنی نقلی دلیل) پر ہے اور نہ یقین پر ہے بلکہ وہم و قیاس پر ہے۔ لہٰذا ان کے معبودوں کے حق میں ان کی گواہی مردود ہے مقبول نہیں۔ دنیا میں تو وہ ایسی گواہی دے رہے ہیں مگر آخرت میں ایسی گواہی نہیں چلے گی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔