ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزخرف (43) — آیت 79

اَمۡ اَبۡرَمُوۡۤا اَمۡرًا فَاِنَّا مُبۡرِمُوۡنَ ﴿ۚ۷۹﴾
یا انھوں نے کسی کام کی پختہ تدبیر کر لی ہے؟ تو بے شک ہم بھی پختہ تدبیر کرنے والے ہیں۔ En
کیا انہوں نے کوئی بات ٹھہرا رکھی ہے تو ہم بھی کچھ ٹھہرانے والے ہیں
En
کیا انہوں نے کسی کام کا پختہ اراده کرلیا ہے تو یقین مانو کہ ہم بھی پختہ کام کرنے والے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

79۔ یا ان لوگوں نے کوئی اقدام کرنے کا فیصلہ [74] کر لیا ہے (ایسی بات ہے) تو ہم بھی فیصلہ کئے دیتے ہیں
[74] کفار مکہ کا اقدام یہ تھا کہ اسلام کی دعوت کو کبھی پروان نہ چڑھنے دیں گے۔ اس دعوت کو روکنے کے لیے کبھی وہ قرآن اونچی آواز سے پڑھنے پر مسلمانوں پر پابندی لگاتے اور کبھی اپنے آپ پر اور کہتے کہ یہ ہماری ہی غفلت اور سستی کا نتیجہ ہے کہ اسلام کی دعوت پھیلتی جا رہی ہے۔ کبھی باہر سے مکہ آنے والوں سے ملاقاتیں کرتے اور کہتے اس شخص کے قریب نہ جانا جو اپنے آپ کو نبی کہتا ہے کیونکہ یہ رشتہ داروں میں پھوٹ ڈال دیتا ہے۔ اور کبھی پیغمبر اسلام کو مار ڈالنے کی تدبیریں کرتے غرض اس جملہ میں کفار مکہ کی سب معاندانہ سرگرمیوں کا ذکر ہے۔ اور جو بھی تدبیر وہ سوچتے تھے اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر ان کے کئے کرائے پر پانی پھیر دیتی تھی۔ تاآنکہ ان کی سب تدبیریں ناکام ہو گئیں۔ ان کے سینے جلتے رہے اور اسلام غالب ہوتا چلا گیا۔