ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزخرف (43) — آیت 78

لَقَدۡ جِئۡنٰکُمۡ بِالۡحَقِّ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَکُمۡ لِلۡحَقِّ کٰرِہُوۡنَ ﴿۷۸﴾
بلاشبہ ہم تو تمھارے پاس حق لے کر آئے ہیں اور لیکن تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرنے والے ہیں۔ En
ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن تم اکثر حق سے ناخوش ہوتے رہے
En
ہم تو تمہارے پاس حق لے آئے لیکن تم میں سے اکثر لوگ حق سے نفرت رکھنے والے تھے؟ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

78۔ ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے لیکن تم میں [73] سے اکثر حق سے نفرت کرتے تھے“
[73] یہ کلام دوزخ کے فرشتہ مالک کا بھی ہو سکتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کا نائب ہونے کی حیثیت سے بات کر رہا ہو۔ اور خود اللہ تعالیٰ کا بھی۔ یعنی ایسی سخت سزا تمہیں اس لیے دی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی سچی باتیں تم سننا بھی گوارا نہ کرتے تھے تمہاری اسی اکڑ کا یہ علاج کیا جا رہا ہے۔