ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزخرف (43) — آیت 67

اَلۡاَخِلَّآءُ یَوۡمَئِذٍۭ بَعۡضُہُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ؕ٪۶۷﴾
سب دلی دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقی لوگ۔ En
(جو آپس میں) دوست (ہیں) اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ مگر پرہیزگار (کہ باہم دوست ہی رہیں گے)
En
اس دن (گہرے) دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

67۔ اس دن پرہیزگاروں [65] کے علاوہ سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے
[65] قیامت کو دینی دوستی کے علاوہ سب قسم کے دوست باہم دشمن بن جائیں گے :۔
قیامت کے دن صرف وہ دوستی برقرار رہے گی جس کی بنیاد تقویٰ پر ہو گی اور جنہوں نے صرف اللہ کی خاطر اور اللہ کے دین کی خاطر ایک دوسرے سے دنیا میں دوستی رکھی ہو گی باقی سب قسم کی دوستیاں دشمنی میں تبدیل ہو جائیں گی۔ اور ایسی دوستیاں بھی کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ مثلاً مشرکوں کی اپنے بتوں سے محبت اور آپس میں دوستی۔ اسلام کے خلاف متحدہ محاذ بنانے میں ہر قسم کے کافروں سے دوستی۔ مجرموں کی مجرموں سے جیسے ڈاکوؤں کی ڈاکوؤں سے دوستی، دنیوی مفادات کی خاطر دوستی۔ ایسی سب دوستیاں اور رشتے نہ صرف یہ کہ منقطع ہو جائیں گے بلکہ یہ سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے اور سب ایک دوسرے پر یہ الزام دھریں گے کہ فلاں میری گمراہی کا باعث بنا اور فلاں اپنے ساتھ مجھے بھی لے ڈوبا۔