ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزخرف (43) — آیت 63

وَ لَمَّا جَآءَ عِیۡسٰی بِالۡبَیِّنٰتِ قَالَ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ لِاُبَیِّنَ لَکُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِیۡہِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ﴿۶۳﴾
اور جب عیسیٰ واضح دلیلیں لے کر آیا تو اس نے کہا بے شک میں تمھارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور تاکہ میں تمھارے لیے بعض وہ باتیں واضح کر دوں جن میں تم اختلاف کرتے ہو، سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔ En
اور جب عیسیٰ نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ میں تمہارے پاس دانائی (کی کتاب) لے کر آیا ہوں۔ نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو تم کو سمجھا دوں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو
En
اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) معجزے کو ﻻئے تو کہا۔ کہ میں تمہارے پاس حکمت ﻻیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ جن بعض چیزوں میں تم مختلف ہو، انہیں واضح کردوں، پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرا کہا مانو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

63۔ اور جب عیسیٰ صریح نشانیاں لے کر آئے تھے تو کہا میں تمہارے پاس دانائی [62] کی باتیں لایا ہوں اور اس لئے بھی تاکہ تم پر بعض وہ باتیں واضح [63] کر دوں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو۔ لہذا اللہ سے ڈر جاؤ اور میری اطاعت کرو
[62] بنی اسرائیل کی فرقہ بندی اور اختلافات کی وجوہ اور سیدنا عیسیٰ کی بعثت کا مقصد :۔
حکمت سے مراد شرعی احکام کی بصیرت اور ان کے مصالح کا علم بھی ہے، شرعی احکام پر عمل پیرا ہونے کا طریق کار بھی اور انہیں عملی طور پر معاشرہ میں نافذ کرنے کا طریقہ بھی۔
[63] یعنی میری بعثت کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ تمہیں شرعی احکام کے متعلق تمام حکمت کی باتیں بتاؤں اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ جن جن باتوں میں تم اختلاف کر رہے ہو۔ اس کی حقیقت تم پر واضح کر دوں۔ واضح رہے کہ یہود یا بنی اسرائیل بہت سے فرقوں میں بٹ گئے تھے۔ کچھ اختلاف تو ان کے قیامت سے تعلق رکھتے تھے۔ یعنی قیامت کے متعلق انہوں نے ایسے عقائد گھڑ لیے تھے جو عند اللہ مسؤلیت کے مقصد کو ہی ختم کر دیتے تھے۔ مثلاً یہ کہ وہ اللہ کے بیٹے اور چہیتے ہیں۔ یا وہ چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں۔ لہٰذا جنت صرف انہی کا حق ہے۔ نیز یہ کہ انہیں دوزخ کی آگ چھو ہی نہیں سکتی مگر صرف چند دن کے لیے اور کچھ اختلاف ان کے حلت و حرمت سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے خود ہی اپنے آپ پر بعض چیزوں کو حرام کر لیا تھا جنہیں اللہ نے حرام نہیں کیا تھا۔ پھر بعد میں اللہ نے سزا کے طور پر واقعی ان چیزوں کو ان پر حرام کر دیا تھا۔ جیسا کہ عیسیٰؑ نے انہیں فرمایا: ﴿وَلِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِيْ حُرِّمَ عَلَيْكُمْ [50:3] ”اور میں اس لیے آیا ہوں کہ بعض چیزیں جو (تمہاری سرکشی کی وجہ سے) تم پر حرام کر دی گئی تھیں ان کو (اللہ کے حکم سے) تم پر حلال کردوں“ لہٰذا اللہ سے ڈر کر ایسے اختلاف چھوڑ دو اور کچھ اختلافات اس وجہ سے پیدا ہو گئے تھے کہ ان کی کتاب تورات اپنی اصلی زبان اور عبارت و الفاظ کے لحاظ سے محفوظ نہ رہی تھی۔ اس میں بزرگوں کے اقوال اور مضامین کچھ اس طرح گڈ مڈ ہو گئے تھے کہ انہیں خود بھی یہ معلوم نہ ہو سکتا تھا کہ اس میں الہامی الفاظ اور عبارت کون سی ہے اور الحاقی کون سی؟