ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزخرف (43) — آیت 61

وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۶۱﴾
اور بلاشبہ وہ یقینا قیامت کی ایک نشانی ہے تو تم اس میں ہرگز شک نہ کرو اور میرے پیچھے چلو، یہ سیدھاراستہ ہے۔ En
اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔ تو (کہہ دو کہ لوگو) اس میں شک نہ کرو اور میرے پیچھے چلو۔ یہی سیدھا رستہ ہے
En
اور یقیناً عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی علامت ہے پس تم (قیامت) کے بارے میں شک نہ کرو اور میری تابعداری کرو، یہی سیدھی راه ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

61۔ اور وہ (عیسیٰ) تو قیامت کی ایک علامت [60] ہے۔ لہذا اس (کے آنے) میں ہرگز شک نہ کرو اور میری پیروی کرو یہی سیدھی راہ ہے۔
[60] یعنی سیدنا عیسیٰؑ کی پیدائش اور پہلی مرتبہ دنیا میں آنا تو خاص بنی اسرائیل کے لیے ایک نشان تھا اور دوبارہ آنا قیامت کا نشان ہو گا۔ ان کے نزول سے لوگ معلوم کر لیں گے کہ اب قیامت بالکل نزدیک آلگی ہے۔ اکثر مفسرین نے اس آیت کا یہی مطلب لیا ہے۔ اور بے شمار احادیث صحیحہ سیدنا عیسیٰؑ کے آسمان سے نزول کی تائید بھی کرتی ہیں جو بالکل قیامت کے قریب ہو گا۔ تاہم اس سے یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے کہ سیدنا عیسیٰؑ کی بن باپ پیدائش اور آپ کو عطا کردہ معجزات بذات خود قیامت کی علامت بن سکتے ہیں۔ یعنی جو ہستی عام عادی طریقے سے ہٹ کر کسی کو بغیر باپ کے پیدا کر سکتی ہے اور اسے محیر العقول معجزات عطا کر سکتی ہے وہ قیامت کو قائم کرنے کی بھی یقیناً قدرت رکھتی ہے۔ یہ مطلب صرف اس لحاظ سے درست معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں کوئی ایسا قرینہ نہیں پایا جاتا جو سیدنا عیسیٰؑ کی دوبارہ آمد یا نزول مسیح پر دلالت کرتا ہو۔