ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزخرف (43) — آیت 52

اَمۡ اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡ ہٰذَا الَّذِیۡ ہُوَ مَہِیۡنٌ ۬ۙ وَّ لَا یَکَادُ یُبِیۡنُ ﴿۵۲﴾
تو کیا تم نہیں دیکھتے؟ بلکہ میں اس شخص سے بہتر ہوں، وہ جو حقیر ہے اور قریب نہیں کہ وہ بات واضح کرے۔ En
بےشک میں اس شخص سے جو کچھ عزت نہیں رکھتا اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا کہیں بہتر ہوں
En
بلکہ میں بہتر ہوں بہ نسبت اس کے جو بےتوقیر ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

52۔ بھلا میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ایک ذلیل [51] آدمی ہے اور بات بھی صاف طور پر نہیں کر سکتا۔
[51] فرعون کا اپنی قوم میں پروپیگنڈہ :۔
فرعون کے اس اعلان سے واضح طور پر یہ معلوم ہو رہا ہے کہ سیدنا موسیٰؑ کی دعوت کی جڑیں اندر ہی اندر کافی مضبوط ہو چکی تھیں۔ اور وہ اس دعوت سے خائف تھا مگر اپنی رعایا میں اپنا بھرم قائم رکھنا چاہتا تھا۔ اور اپنی قوم سے اسی طرح کا استصواب چاہتا تھا۔ جیسے الیکشن کے دنوں میں امیدوار اپنی خوبیاں اور اپنے حریف کے نقائص بیان کیا کرتے ہیں۔ اس نے اپنا اور سیدنا موسیٰؑ کا تقابل پیش کرتے ہوئے کہا۔ دیکھو! یہ ملک مصر میں میری حکومت کس قدر مضبوط ہے۔ آبپاشی کا نظام بہت عمدہ ہے۔ جس پر تمہاری معیشت کا دارومدار ہے۔ ہم لوگوں نے دریائے نیل سے کئی نہریں ملک بھر میں جا بجا بچھا دی ہیں۔ یہ سب کچھ تو میرے نظام کے تحت ہو رہا ہے۔ پھر تم ایک ایسے شخص کے پیچھے کیوں لگے جا رہے ہو جو میرے مقابلہ میں نہایت کمتر درجہ کا آدمی ہے۔ نہ اس کے پاس مال و دولت ہے اور نہ حکومت اور وہ کھل کر صاف صاف باتیں بھی نہیں کر سکتا۔ تمہیں کچھ تو سوچ و بچار سے کام لینا چاہئے۔