ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزخرف (43) — آیت 5

اَفَنَضۡرِبُ عَنۡکُمُ الذِّکۡرَ صَفۡحًا اَنۡ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا مُّسۡرِفِیۡنَ ﴿۵﴾
تو کیا ہم تم سے اس نصیحت کو ہٹا لیں، اعراض کرتے ہوئے، اس وجہ سے کہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو۔ En
بھلا اس لئے کہ تم حد سے نکلے ہوئے لوگ ہو ہم تم کو نصیحت کرنے سے باز رہیں گے
En
کیا ہم اس نصیحت کو تم سے اس بنا پر ہٹالیں کہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ تو کیا ہم تمہیں درگزر کرتے ہوئے تمہاری طرف یہ ذکر بھیجنا چھوڑ دیں گے صرف اس لئے کہ تم حد سے بڑھے [5] ہوئے لوگ ہو؟
[5] یعنی اے کفار مکہ! اگر تم اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتے۔ قرآن کی آیات کا مذاق اڑاتے ہو، کبھی اسے پہلوں کی کہانیاں قرار دیتے ہو، کبھی اسے بندوں کا کلام کہتے ہو۔ تو کیا ہم تمہاری ایسی شرارتوں کی وجہ سے خلقت کی رہنمائی کا کام چھوڑ دیں گے اور قرآن کو نازل کرنا بند کر دیں گے؟ اس کے نزول کے دو فائدے تو بہرحال ہو ہی رہے ہیں ایک یہ کہ بہت سی سعید روحیں اس سے مستفید ہو رہی ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ تم لوگوں پر حجت پوری ہو رہی ہے۔