ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزخرف (43) — آیت 37

وَ اِنَّہُمۡ لَیَصُدُّوۡنَہُمۡ عَنِ السَّبِیۡلِ وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۳۷﴾
اور بے شک وہ ضرور انھیں اصل راستے سے روکتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ بے شک وہ سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں ۔ En
اور یہ (شیطان) ان کو رستے سے روکتے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سیدھے رستے پر ہیں
En
اور وه انہیں راه سے روکتے ہیں اور یہ اسی خیال میں رہتے ہیں کہ یہ ہدایت یافتہ ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

37۔ اور ایسے شیطان انہیں سیدھی راہ سے روک دیتے ہیں جبکہ وہ یہ سمجھ رہے [37] ہوتے ہیں کہ وہ ٹھیک راستے پر جا رہے ہیں
[37] یہ شیطان جو ہر وقت اس کے ساتھ لگا رہتا ہے کوئی جن بھی ہو سکتا ہے اور انسان بھی۔ اور یہ اسے کسی وقت نیکی کی طرف یا اللہ کے راستہ کی طرف نہیں آنے دیتا پھر لطف کی بات یہ ہے کہ اس کی ایسی مت ماری جاتی ہے کہ اس میں نیکی اور بدی کی تمیز ہی باقی نہیں رہتی۔ وہ اپنے برے کاموں کو ہی اچھا سمجھنے لگتا ہے۔ اور اسے اپنی یہ بد روی اور گمراہی ہی صحیح راہ معلوم ہونے لگتی ہے۔