ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزخرف (43) — آیت 29

بَلۡ مَتَّعۡتُ ہٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَہُمۡ حَتّٰی جَآءَہُمُ الۡحَقُّ وَ رَسُوۡلٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۹﴾
بلکہ میں نے انھیں اور ان کے باپ داداکو برتنے کا سامان دیا، یہاں تک کہ ان کے پاس حق آگیا اور وہ رسول جو کھول کر بیان کرنے والا ہے۔ En
بات یہ ہے کہ میں ان کفار کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتا رہا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آ پہنچا
En
بلکہ میں نے ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادوں کو سامان (اور اسباب) دیا، یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف سنانے واﻻ رسول آگیا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ بلکہ میں نے انہیں اور ان کے آباء و اجداد کو زندگی سے فائدہ اٹھانے کا موقعہ دیا [27] تا آنکہ ان کے پاس حق اور کھول کر بیان کرنے والا [28] رسول آیا۔
[27] بات یہ نہیں جو تم کہہ رہے ہو بلکہ اس کے برعکس معاملہ یہ ہے کہ تم نے جان بوجھ کر سیدنا ابراہیمؑ کی تعلیم کو بھلا رکھا ہے اور ان کی وصیت کی کوئی پروا نہیں کی۔ اللہ نے تمہیں اور تمہارے آباء و اجداد کو جو سامان زیست اور نعمتیں عطا کی تھیں ان کے مزوں میں پڑ کر اللہ کی طرف سے بالکل غافل ہو گئے۔ یہ شرکیہ رسوم تمہارے سامان عیش و عشرت کا سہارا بنی ہوئی تھیں۔ جنہیں اب تم چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
[28] ﴿رَسُوْلٌ مُّبِيْنٌ کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ یہ رسول تمہیں شرک اور توحید کی راہیں صاف صاف اور کھول کھول کر سمجھانے والا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایسا رسول آیا جس کا رسول ہونا بالکل واضح تھا۔