ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزخرف (43) — آیت 27

اِلَّا الَّذِیۡ فَطَرَنِیۡ فَاِنَّہٗ سَیَہۡدِیۡنِ ﴿۲۷﴾
سوائے اس کے جس نے مجھے پیدا کیا، پس بے شک وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا۔ En
ہاں جس نے مجھ کو پیدا کیا وہی مجھے سیدھا رستہ دکھائے گا
En
بجز اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے ہدایت بھی کرے گا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

27۔ میں تو صرف اس کی بندگی کرتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راہ [25] دکھائے گا
[25] سیدنا ابراہیمؑ کا اپنا یہ حال تھا کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے آباء و اجداد اور ان کی قوم سب کے سب اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرنے لگ گئے ہیں تو انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اپنے باپ دادا کے دین کو کیسے چھوڑوں۔ بلکہ انہوں نے برملا کہہ دیا تھا کہ مجھے ان بتوں کی بندگی سے سخت نفرت ہے۔ اور ساتھ ہی یہ دلیل بھی پیش کر دی کہ میں تو صرف اسی ذات کی بندگی کر سکتا ہوں جس نے مجھے پیدا بھی کیا ہے اور ہدایت کی راہ بھی دکھاتا ہے اور جن چیزوں کا نہ میری پیدائش میں دخل ہے اور نہ ہی ہدایت دے سکتے ہیں بلکہ خود بے جان مخلوق ہیں اور سنتے بولتے بھی نہیں ہیں آخر ایسی بے کار چیزوں کی بندگی میں کیوں کروں؟