15۔ اور ان لوگوں نے اللہ کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جزو [14] بنا ڈالا۔ بلا شبہ انسان صریح احسان فراموش ہے
[14] یہ تو تھے اللہ کے بندوں پر احسانات، چاہئے تو یہ تھا کہ انسان اللہ کے ان احسانات اور انعامات کے بدلے اس کا ممنون احسان ہوتا اور اس کا شکر ادا کرتا۔ مگر اس نے نہ صرف یہ کہ اللہ کی نا قدر شناسی کی، بلکہ مزید ستم یہ ڈھایا کہ اس کی ذات اور صفات کے حصے بخرے کر ڈالے اور کئی چیزوں کو اس کی ذات و صفات میں اس کا حصہ دار اور ہمسر بنا ڈالا۔ اس نے اللہ کی اولاد قرار دی۔ حالانکہ اللہ ہر چیز کا خالق اور مالک ہے۔ جبکہ اولاد نہ مخلوق ہوتی ہے اور نہ مملوک۔ اولاد تو اسی کی جنس سے اور اس کا حصہ ہوتی ہے۔ اس طرح انہوں نے اللہ سبحانہ کی ذات کو کئی حصوں میں بانٹ ڈالا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔