10۔ جس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ [8] بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے [9] بنا دیئے تاکہ تم (اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے) راہ پا سکو
[8] زمین گہوارہ کیسے ہے؟
گہوارہ میں بچہ بڑے آرام سے جھولے لیتا ہے، آرام کرتا اور سوتا ہے۔ اس لیے کہ جھولے کی رفتار میں یکسانیت ہوتی ہے۔ بالکل یہی صورت زمین کی ہے جو ایک بہت بڑا عظیم الجثہ کرہ ہے۔ اور فضائے بسیط میں معلق ہزارہا میل فی منٹ کی تیز رفتاری سے محو گردش ہے۔ مگر اس کی اس تیز رفتاری میں بھی یکسانیت ہے۔ جس کی وجہ سے تمہیں اس کی یہ حرکت محسوس تک نہیں ہوتی اگر اس کے اندر سے کوئی آتش فشاں پہاڑ یا آتش گیر مادہ پھٹ پڑے اور اس میں زلزلہ پیدا ہو جائے تو اسی وقت تمہاری جان پر بن جاتی ہے۔ اور پروردگار یاد آنے لگتا ہے اور اگر خدانخواستہ اس کی رفتار میں بے ترتیبی واقع ہو جائے تو تمہاری تباہی یقینی ہے۔ یہ اللہ ہی کی ذات ہے جس نے اس مہیب کرہ کو اپنے کنٹرول میں رکھ کر اسے تمہارے حق میں گہوارے کی طرح آرام دہ بنا دیا ہے۔ تم اس پر بڑے سکون و اطمینان سے چلتے پھرتے اور رہتے سہتے ہو۔
[9] راستوں سے راہ پانے کے دو مفہوم :۔
اللہ تعالیٰ نے زمین بنائی تو ایک جیسی نہیں بنائی۔ کہیں نشیب ہیں کہیں فراز، کہیں پہاڑ ہیں اور کہیں ریت کے تودے، پھر ان پہاڑوں کی بلندی بھی یکساں نہیں بنائی۔ کہیں کٹاؤ ہیں کہیں درے ہیں۔ جنہیں پار کر کے انسان ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ یا دوسرے علاقہ کی طرف جا سکتا ہے۔ پھر ان پہاڑوں میں وادیاں بنائیں جو پانی کی گزر گاہیں ہیں۔ انہیں گزر گاہوں پر چلنے کے راستے بن گئے۔ پھر زمین پر بے شمار امتیازی نشانات بنا دیئے۔ ان سب باتوں کا فائدہ یہ ہوا کہ انسان انہیں نشانات اور راہوں کی مدد سے دنیا کے ایک حصہ سے دوسرے حصہ تک سفر کر سکتا ہے اور بھولتا نہیں۔ اگر ایسے نشانات نہ ہوتے اور ساری زمین ایک جیسی ہوتی تو انسان نہ سفر کرنے کے قابل ہو سکتا اور نہ ہی راستے بن سکتے تھے۔ راستے اگرچہ انسان ہی بناتا ہے لیکن چونکہ راستوں کے ذرائع اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں اس لیے انہیں براہ راست اپنی طرف منسوب کیا۔ اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے اور دوسرا یہ کہ ان امتیازی نشانات میں غور کر کے ہدایت کی راہ پا سکو اور اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر سکو۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔