اور کسی بشر کے لیے ممکن نہیںکہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے، یا پردے کے پیچھے سے، یا یہ کہ وہ کوئی رسول بھیجے، پھر اپنے حکم کے ساتھ وحی کرے جو چاہے، بے شک وہ بے حد بلند، کمال حکمت والا ہے۔
En
اور کسی آدمی کے لئے ممکن نہیں کہ خدا اس سے بات کرے مگر الہام (کے ذریعے) سے یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیج دے تو وہ خدا کے حکم سے جو خدا چاہے القا کرے۔ بےشک وہ عالی رتبہ (اور) حکمت والا ہے
ناممکن ہے کہ کسی بنده سے اللہ تعالیٰ کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وه اللہ کے حکم سے جو وه چاہے وحی کرے، بیشک وه برتر ہے حکمت واﻻ ہے
En
51۔ کسی انسان کے لئے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے روبرو بات چیت کرے۔ البتہ یہ وحی کی صورت میں یا پردے کے پیچھے سے ہو سکتی ہے یا وہ کوئی فرشتہ بھیجتا ہے اور وہ اللہ کے حکم سے جو کچھ اللہ چاہتا ہے وحی [71] کرتا ہے وہ یقیناً عالی شان اور حکمت والا ہے۔
[71] وحی کے مختلف طریقے :۔
اس آیت میں لفظ وحیا اپنے لغوی معنی (سریع اور تیز اشارہ۔ یعنی القاء و الہام) کے معنوں میں آیا ہے اور لفظ یوحی اپنے اصطلاحی معنوں میں (یعنی اللہ کا اپنے نبی کو فرشتہ کے ذریعہ پیغام بھیجنا) استعمال ہوا ہے۔ گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے کسی انسان سے کلام کرنے کے تین طریقے مذکور ہیں: (1) القاء یا الہام۔ اس قسم کی وحی غیر نبی کو بھی ہو سکتی ہے۔ جیسے ام موسیٰ کو ہوئی تھی۔ [28: 7] بلکہ غیر انسان کی طرف بھی ہو سکتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی [16: 68] اور ایسی وحی انبیاء کو خواب میں بھی ہو سکتی ہے۔ جیسے سیدنا ابراہیم کو یہ خواب آیا تھا کہ میں اپنے بیٹے کو ذبح کر رہا ہوں۔ [37: 102] (2) دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پردے کے پیچھے سے بات کرے اور پردہ کا مطلب ہے کہ انسان اللہ کا کلام سن تو سکتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو دیکھ نہیں سکتا۔ انسان کے اس مادی جسم اور ان ظاہری حواس سے اللہ تعالیٰ کا دیدار ناممکن ہے۔ ایسی بات چیت اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰؑ سے کوہ طور کے دامن میں کی تھی۔ مگر آپ دیدارِالٰہی کی تمنا اور سوال کے باوجود اللہ تعالیٰ کو دیکھ نہیں سکے تھے۔ (3) فرشتہ بھیجنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ جبرئیلؑ نبی کے دل پر نازل ہو اور اسے اللہ کا پیغام پہنچائے۔ تمام کتب سماویہ کا نزول اسی طرح ہوا ہے۔ اور دوسری یہ کہ فرشتہ انسانی شکل میں سامنے آکر کلام کرے۔ جیسے فرشتے سیدنا ابراہیم اور سیدنا لوطؑ کے پاس آئے تھے۔ اور سیدنا ابراہیمؑ کو بیٹے اسحقؑ کی خوشخبری دی تھی۔ اور سیدنا لوطؑ کو ان کی قوم پر عذاب آنے کی خبر دی تھی اور ایسی وحی غیر نبی کی طرف بھی ہو سکتی ہے جیسے سیدنا جبرئیلؑ نے سیدہ مریم کے سامنے آکر بیٹے سیدنا عیسیٰؑ کی بشارت دی تھی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔