ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 47

اِسۡتَجِیۡبُوۡا لِرَبِّکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ ؕ مَا لَکُمۡ مِّنۡ مَّلۡجَاٍ یَّوۡمَئِذٍ وَّ مَا لَکُمۡ مِّنۡ نَّکِیۡرٍ ﴿۴۷﴾
اپنے رب کی دعوت قبول کرو، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی اللہ کی طرف سے کوئی صورت نہیں ،اس دن نہ تمھارے لیے کوئی جائے پناہ ہو گی اور نہ تمھارے لیے انکا ر کی کوئی صورت ہو گی۔ En
ان سے کہہ دو کہ) قبل اس کے کہ وہ دن جو ٹلے گا نہیں خدا کی طرف سے آ موجود ہو اپنے پروردگار کا حکم قبول کرو۔ اس دن تمہارے لئے نہ کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تم سے گناہوں کا انکار ہی بن پڑے گا
En
اپنے رب کا حکم مان لو اس سے پہلے کہ اللہ کی جانب سے وه دن آجائے جس کا ہٹ جانا ناممکن ہے، تمہیں اس روز نہ تو کوئی پناه کی جگہ ملے گی نہ چھﭗ کر انجان بن جانے کی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

47۔ اس دن کے آنے سے پہلے پہلے اپنے پروردگار کا حکم مان لو جس کے ٹلنے کی کوئی صورت [66] اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ اس دن تمہارے لئے کوئی جائے پناہ نہ ہو گی۔ اور تم اظہار ناراضگی بھی نہ [67] کر سکو گے۔
[66] یعنی دنیا میں ان سے عذاب ٹلتا رہا اور انہیں مہلت دی جاتی رہی۔ مگر اس دن ایسی کوئی صورت نہ ہو گی اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو عذاب اللہ نے ان کے لیے مقرر کر دیا ہے کسی میں ہمت نہ ہو گی کہ وہ اسے ان سے ٹال سکے۔
[67] نکیر کے مختلف مفہوم :۔
نکیر کا مادہ نکر ہے اور اس میں بنیادی طور پر دو باتیں پائی جاتی ہیں۔ (1) اجنبیت، (2) ناگواری (نکرہ کی ضد معرفہ ہے) نکر بمعنی ناگوار۔ نازیبا اور نامعقول چیز اور نکیر کے معنی ناگوار، نازیبا، نامعقول چیز بھی اور ایسی چیز کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھانا یا ناراضگی کا اظہار کرنا بھی اور نکر کے معنی کسی چیز کو بگاڑ دینا اور اس کی شکل بدل دینا بھی ہے۔ اس لحاظ سے اس جملہ کے کئی معنی بن سکتے ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ تم اجنبی نہیں ہو گے سب تمہیں جانتے پہچانتے ہوں گے۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ بھیس بدل کر چھپ نہ سکو گے۔ چوتھا مطلب یہ ہے کہ اس دن تم جیسی بھی حالت میں ہو گے اس میں کوئی تبدیلی نہ لاسکو گے۔