43۔ اور جو شخص صبر کرے اور معاف کر دے تو یہ بڑی ہمت [61] کا کام ہے۔
[61] یعنی زیادتی کو برداشت کر جانا بذات خود بڑی ہمت اور حوصلہ کا کام ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلوان وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے بلکہ وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو کنٹرول اور ضبط میں رکھے۔ پھر اگر وہ صرف برداشت ہی نہ کرے بلکہ زیادتی کرنے والے کو معاف بھی کر دے تو پھر اس کے کیا ہی کہنے ہیں؟ مگر یہ بڑے ہی دل گردہ کا کام ہے اور صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جنہیں اللہ کی توفیق حاصل ہو۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔