اگر وہ چاہے ہوا کو ٹھہرا دے تو وہ اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں۔ بے شک اس میں ہر ایسے شخص کے لیے یقینا کئی نشانیاں ہیں جو بہت صبر کرنے والا، بہت شکر کرنے والا ہے۔
En
اگر خدا چاہے تو ہوا کو ٹھیرا دے اور جہاز اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں۔ تمام صبر اور شکر کرنے والوں کے لئے ان (باتوں) میں قدرت خدا کے نمونے ہیں
33۔ اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کر دے اور وہ کشتیاں سطح سمندر پر کھڑی کی کھڑی [47] رہ جائیں۔ اس میں بھی ہر صبر کرنے والے اور شکرگزار کے لئے [48] کئی نشانیاں ہیں
[47] قرآن میں اکثر مقامات پر کشتیوں کی روانی کو اللہ کی آیات میں شمار کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ قریش مکہ کو تجارتی سلسلہ میں افریقہ کے ساحلی علاقہ سے تجارت کے لیے بحیرہ احمر کا سفر درپیش رہتا تھا۔ اس دور میں بادبانی کشتیاں ہوتی تھیں جن کی روانی اور رفتار کا انحصار باد موافق پر اور اس کی رفتار پر ہوتا تھا۔ انہیں بتایا یہ جا رہا ہے کہ تمہاری بے بسی کا یہ عالم ہے کہ جب تمہاری کشتی وسط سمندر میں پہنچ جائے اور اللہ تعالیٰ ہوا کو ساکن کر دے تو بتاؤ اس وقت تم کیا کر سکتے ہو؟ [48] صبار اور شکور دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں اور یہ دو ایسے الفاظ ہیں جن میں مومن کی ساری زندگی کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا گیا ہے۔ یعنی مومن پر جب بھی کوئی مصیبت یا تکلیف آتی ہے تو وہ صبر اور برداشت سے کام لیتا ہے۔ اور جب بھی اللہ کی کوئی نعمت ملتی ہے یا اسے بھلائی پہنچتی ہے تو وہ اللہ کا احسان مند ہوتا اور اس کا شکر ادا کرنے لگ جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایک کافر اور دنیا دار انسان کا یہ وطیرہ ہوتا ہے کہ مصیبت پڑنے پر جزع فزع کرتا، اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر اسے کو سنے لگتا ہے۔ اور جب اسے کوئی بھلائی نصیب ہوتی یا خوشحالی کا دور آتا ہے تو پھر وہ اللہ کو بھول ہی جاتا ہے۔ گویا ایک مومن کو سمندر کے سفر میں صبر اور شکر کا اکثر موقع ملتا رہتا ہے۔ وہ سازگار حالات میں اللہ کا شکر کرتا ہے اور اگر ہوا بند ہو جائے تو اس کی نظر اللہ ہی پر رہتی ہے اور صبر کا مظاہرہ کرتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔