ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 16

وَ الَّذِیۡنَ یُحَآجُّوۡنَ فِی اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا اسۡتُجِیۡبَ لَہٗ حُجَّتُہُمۡ دَاحِضَۃٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ وَ عَلَیۡہِمۡ غَضَبٌ وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ﴿۱۶﴾
اور جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں، اس کے بعد کہ اس کی دعوت قبول کر لی گئی، ان کی دلیل ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر بڑا غضب ہے اور ان کے لیے بہت سخت سزا ہے۔ En
اور جو لوگ خدا (کے بارے) میں بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہو جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے۔ اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے
En
اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی باتوں میں جھگڑا ڈالتے ہیں اس کے بعد کہ (مخلوق) اسے مان چکی ان کی کٹ حجتی اللہ کے نزدیک باطل ہے، اور ان پر غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ جو لوگ اللہ (کی ہستی) کو تسلیم کر لئے جانے کے بعد اس کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں ان کی حجت ان کے پروردگار [25] کے ہاں باطل ہے ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے۔
[25] ﴿دحض﴾ کا لغوی مفہوم :۔
اس آیت میں ﴿حُجَّةٌ کے بجائے ﴿دَاحِضَةٌ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور دحض کے مفہوم میں تین باتیں پائی جاتی ہیں۔ (1) پھسلنا (2) کمزور ہونا (3) زائل ہو جانا
اور یہ دحض الرجل سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کہ پاؤں نے ٹھوکر کھائی اور اپنی جگہ سے پھسل گیا اور داحِضَۃٌ کے معنی میں ایسی دلیل ہے جو حق کے مقابلہ میں اپنے پاؤں پر قائم نہ رہ سکے، پھسل کر کمزور اور زائل ہو جائے، یعنی زائل ہو جانے والی اور بودی دلیل۔ مکہ میں اگر کوئی شخص مسلمان ہو جاتا تو اس کے مشرک دوست اور لواحقین ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ جاتے اور اس سے بحثیں اور لڑائی جھگڑے کر کر کے اسے زچ کر دیتے اور اس بات پر مجبور کر دیتے کہ وہ پھر سے اسلام چھوڑ کر ان کے آبائی دین میں شامل ہو جائے۔ یہ تو انفرادی صورت تھی اور اجتماعی صورت یہ تھی کہ کفار کی مخالفت اور اذیت کے باوجود بھی اسلام پھیل رہا تھا اور مسلمانوں کی تعداد میں دم بدم اضافہ ہو رہا تھا۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے کافر متحد ہو کر میدان میں اتر آئے تھے اور اس دعوت کو روکنے کے لیے کبھی دھمکی، کبھی لالچ، کبھی سمجھوتہ اور کبھی مکمل بائیکاٹ اور کبھی مذاق و استہزاء اور کبھی فضول قسم کے اعتراضات اور بحثوں کے راستے کھولے جا رہے تھے۔ اس صورت حال کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب سنجیدہ اور عقل مند طبقہ اسلام کے دلائل سے متاثر ہو کر اس کی حقانیت پر ایمان لا چکا ہے اور اللہ کی توحید کو علی وجہ البصیرت تسلیم کیا جا چکا ہے تو اب کافروں کے یہ جھگڑے عبث اور بے کار ہیں۔ یہ جو کچھ بھی چاہیں کر لیں اللہ ان کی سازشوں کو کبھی کامیاب نہ ہونے دے گا اور حق سربلند ہو کے رہے گا۔ البتہ حق کو دبانے کے لیے جتنا زور یہ صرف کر رہے ہیں اتنا ہی اللہ کا غضب ان پر بھڑکتا ہے اور اتنی ہی شدید سزا انہیں دی جائے گی۔