7۔ جو زکوٰۃ[6] ادا نہیں کرتے اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں
[6] زکوٰۃ کے دو معنی :۔
اس جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک لغوی اعتبار سے زکٰی کے معنی بالیدگی، نشوونما پانا اور عمدہ ہونا اور زکی اور زکیّٰ کے معنی نفس کو روحانی آلائشوں، عقائد کی خرابیوں، بیماریوں اور اخلاق رذیلہ سے پاک کر کے اوصاف حمیدہ پیدا کرنا ہے۔ اس لحاظ سے اس جملہ کا مطلب یہ ہوا کہ ان مشرکوں کے لیے ہلاکت ہے جو اپنے مشرکانہ عقائد سے اپنے آپ کو پاک صاف نہیں بناتے اور دوسرا مطلب شرعی اصطلاح کے اعتبار سے یہ ایسے مشرک جو شرک کر کے اللہ کے حقوق تلف کرتے ہیں اور زکٰوۃ کی عدم ادائیگی سے لوگوں کے حقوق تلف کرتے ہیں۔ اور ان دونوں کی اصل وجہ یہ ہے کہ آخرت میں جوابدہی کے منکر ہیں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔