ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 7

الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۷﴾
وہ جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کا انکار کرنے والے بھی وہی ہیں۔
جو زکوٰة نہیں دیتے اور آخرت کے بھی قائل نہیں
جو زکوٰة نہیں دیتے اورآخرت کے بھی منکر ہی رہتے ہیں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ جو زکوٰۃ [6] ادا نہیں کرتے اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں
[6] زکوٰۃ کے دو معنی :۔
اس جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک لغوی اعتبار سے زکٰی کے معنی بالیدگی، نشوونما پانا اور عمدہ ہونا اور زکی اور زکیّٰ کے معنی نفس کو روحانی آلائشوں، عقائد کی خرابیوں، بیماریوں اور اخلاق رذیلہ سے پاک کر کے اوصاف حمیدہ پیدا کرنا ہے۔ اس لحاظ سے اس جملہ کا مطلب یہ ہوا کہ ان مشرکوں کے لیے ہلاکت ہے جو اپنے مشرکانہ عقائد سے اپنے آپ کو پاک صاف نہیں بناتے اور دوسرا مطلب شرعی اصطلاح کے اعتبار سے یہ ایسے مشرک جو شرک کر کے اللہ کے حقوق تلف کرتے ہیں اور زکٰوۃ کی عدم ادائیگی سے لوگوں کے حقوق تلف کرتے ہیں۔ اور ان دونوں کی اصل وجہ یہ ہے کہ آخرت میں جوابدہی کے منکر ہیں۔