ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 52

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ثُمَّ کَفَرۡتُمۡ بِہٖ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ ہُوَ فِیۡ شِقَاقٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۵۲﴾
کہہ دے کیا تم نے دیکھا ا گر وہ اللہ کی طرف سے ہوا، پھر تم نے اس کا انکار کر دیا تو اس سے زیادہ کون گمراہ ہو گا جو بہت دور کی مخالفت میں پڑا ہو۔
کہو کہ بھلا دیکھو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو (حق کی) پرلے درجے کی مخالفت میں ہو
آپ کہہ دیجئے! کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہوا ہو پھر تم نے اسے نہ مانا بس اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہوگا جو مخالفت میں (حق سے) دور چلا جائے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

52۔ آپ ان سے پوچھئے: بھلا دیکھو، اگر یہ قرآن اللہ ہی کی طرف سے ہو [70] اور تم نے اس سے انکار کر دیا تو اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہو گا جو اس کی مخالفت میں دور تک چلا گیا ہو؟
[70] آخرت کے منکر کیسے خسارہ میں رہتے ہیں؟
اس قرآن میں جو بعث بعد الموت اور اللہ کے حضور پیشی کا عقیدہ پیش کیا گیا ہے وہ ایک ٹھوس حقیقت ہو تو بتاؤ تمہارا کیا حال ہو گا؟ فرض کرو کہ تمہارے زعم کے مطابق سب انسان مر کر مٹی میں مل جائیں گے اور یہی انسان کا انجام ہو تو جو شخص روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کا کیا بگڑے گا؟ اور اگر قرآن کی بات سچی ہوئی اور تمہیں اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہونا پڑا تو بتاؤ تمہاری گمراہی کا کوئی ٹھکانا ہے جس کے نتیجہ میں لازماً تمہیں جہنم کا عذاب بھگتنا پڑے گا؟