اور یقینا اگر ہم اسے کسی تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہو، اپنی طرف سے کسی رحمت کامزہ چکھائیں تو ضرور ہی کہے گا یہ میرا حق ہے اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہو نے والی ہے اور اگر واقعی مجھے اپنے رب کی طر ف واپس لے جایا گیا تو یقینا میرے لیے اس کے پاس ضرور بھلائی ہے۔ پس ہم یقینا ان لوگوں کو جنھوںنے کفر کیا ضرور بتائیں گے جو کچھ انھوں نے کیا اور یقینا ہم انھیں ایک سخت عذاب میں سے ضرور چکھائیں گے۔
اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اس کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو میرا حق تھا اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہو۔ اور اگر (قیامت سچ مچ بھی ہو اور) میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو میرے لئے اس کے ہاں بھی خوشحالی ہے۔ پس کافر جو عمل کیا کرتے وہ ہم ان کو ضرور جتائیں گے اور ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے
اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزه چکھائیں تو وه کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حقدار ہی تھا اور میں تو خیال نہیں کرسکتا کہ قیامت قائم ہوگی اور اگر میں اپنے رب کے پاس واپس کیا گیا تو بھی یقیناً میرے لیے اس کے پاس بھی بہتری ہے، یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزه چکھائیں گے
50۔ اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اسے اپنی رحمت کا مزا چکھائیں تو کہنے لگتا ہے کہ ”میں اسی کا مستحق [66] تھا اور میں نہیں سمجھتا کہ کبھی قیامت بھی آئے گی اور اگر مجھے اپنے پروردگار کے پاس جانا ہی پڑا تو وہاں بھی میرے [67] لئے بھلائی ہی ہو گی“ ہم ایسے کافروں کو ضرور بتا دیں گے کہ وہ کیا کرتے تھے اور انہیں گندے [68] عذاب کا مزا چکھائیں گے
[66] آسائش میں اپنی تدبیر پر ناز :۔
اور تیسرا پہلو یہ ہے کہ اگر ہم اس کی تنگی، فاقہ یا بیماری کو دور کر دیں اور اس پر بھلے دن آجائیں تو پھر بھی اللہ کی طرف نہیں ہوتا، نہ اس ذات کا شکر ادا کرتا ہے جس نے اس کی تکلیف کو دور کر دیا جس سے وہ قطعاً مایوس ہو چکا تھا۔ بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ بس اس کی حسن تدبیر اور محنت کا نتیجہ تھا اور اگر میرے دن پھر گئے ہیں تو میں فی الواقع اس بات کا مستحق تھا۔
[67] مالدار اور دنیا دار لوگوں کا نظریہ کہ اگر اللہ آج مجھ پر خوش ہے تو قیامت کو کیوں نہ ہو گا :۔
ایسا شخص اگر اللہ کی ہستی کو مانتا بھی ہے تو اس کی معرفت انتہائی ناقص ہوتی ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ سب کچھ بس میں ہی ہوں۔ میرے اوپر کوئی ایسی ہستی نہیں جو کلیتاً میرے نفع و نقصان کی مالک ہو اور میری زندگی کی باگ ڈور اسی کے ہاتھوں میں ہو۔ اسی طرح روز آخرت اور اعمال کی جزا و سزا پر بھی اس کا ایمان انتہائی ناقص ہوتا ہے اور لوگوں کے کہنے پر وہ یہ فرض کر لیتا ہے کہ اگر مجھے اپنے پروردگار کے سامنے جانا بھی پڑا تو کیا وجہ ہے کہ وہ مجھے عذاب دے۔ میری موجودہ خوشحالی ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی خدا ہے تو وہ یقیناً مجھ سے خوش ہے۔ پھر اس دن آخر کیوں خوش نہ ہو گا۔ گویا ایسے لوگوں کے نزدیک دنیا کی خوشحالی ہی ان کے پروردگار کی خوشنودی کی دلیل ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ جس شخص کا اپنے پروردگار اور آخرت کے بارے میں ایسا غلط اور کمزور قسم کا ایمان ہو۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ کافر بھی ہوتا ہے اور مشرک بھی۔ جیسا کہ سورۃ کہف کے پانچویں رکوع میں بالکل ایسے ہی شخص کا قصہ گزر چکا ہے۔ اور ایسے شخص کی صحیح ذہنیت درج ذیل حدیث سے بھی معلوم ہوتی ہے: سیدنا خباب بن ارتؓ کہتے ہیں کہ میں مکہ میں لوہار کا پیشہ کرتا تھا۔ میں نے عاص بن وائل سہمی کے لیے ایک تلوار بنائی۔ اس کی مزدوری کے تقاضا کے لیے میں عاص کے پاس گیا اس نے کہا: میں تجھے یہ مزدوری اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم (کے دین) سے پھر نہ جائے۔ میں نے کہا۔ میں تو اس وقت تک بھی اس دین سے نہیں پھر سکتا جب کہ تو مر کر دوبارہ جی اٹھے گا۔ اس نے کہا: کیا میں مرنے کے بعد پھر جیوں گا؟ میں نے کہا، ”بیشک“ وہ کہنے لگا: اچھا پھر جب میرے مرنے کے بعد اللہ مجھ کو زندہ کرے گا تو آخر مال اور اولاد بھی دے گا۔ اس وقت میں تیرا قرضہ ادا کر دوں گا۔ [بخاری۔ کتاب التفسیر۔ سورۃ مریم۔ باب قولہ اطلع الغیب] [68] غلیظ کے معنی موٹا۔ دبیز، گاڑھا، سخت اور گندہ سب کچھ آتا ہے۔ اور یہاں یہ لفظ سخت اور گندہ دونوں معنوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ غلاظت مشہور لفظ ہے۔ اور یہ عذاب گندہ اس لحاظ سے ہو گا کہ ایسے لوگوں کو پینے کے لیے پیپ، کچ لہو، زخموں کا دھوون، انتہائی متعفن بدبو دار اور شدید ٹھنڈا پانی، ایسی ہی چیزیں پینے کو ملیں گی جن سے انسان کو گھن آتی ہے۔ اور اس کے سخت ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔