ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 5

وَ قَالُوۡا قُلُوۡبُنَا فِیۡۤ اَکِنَّۃٍ مِّمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَیۡہِ وَ فِیۡۤ اٰذَانِنَا وَقۡرٌ وَّ مِنۡۢ بَیۡنِنَا وَ بَیۡنِکَ حِجَابٌ فَاعۡمَلۡ اِنَّنَا عٰمِلُوۡنَ ؓ﴿۵﴾
اور انھوں نے کہا ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے اور ہمارے کانوں میں ایک بوجھ ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے درمیان ایک حجاب ہے، پس تو عمل کر، بے شک ہم بھی عمل کرنے والے ہیں۔
اور کہتے ہیں کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں اور ہمارے کانوں میں بوجھ (یعنی بہراپن) ہے اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ ہے تو تم (اپنا) کام کرو ہم (اپنا) کام کرتے ہیں
اور انہوں نے کہا کہ تو جس کی طرف ہمیں بلا رہا ہے ہمارے دل تو اس سے پردے میں ہیں اور ہمارے کانوں میں گرانی ہے اور ہم میں اور تجھ میں ایک حجاب ہے، اچھا تو اب اپنا کام کیے جا ہم بھی یقیناً کام کرنے والے ہیں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ اور کہتے ہیں کہ جس چیز کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں اور ہمارے کان (یہ کلام سننے سے) بہرے ہو گئے ہیں اور ہمارے اور تیرے درمیان [3] ایک پردہ حائل ہے لہذا تم اپنا کام کئے جاؤ ہم اپنا کام [4] کئے جائیں گے
[3] قرآن کی ان گونا گوں خوبیوں کے باوجود زیادہ تر لوگ اس کی مخالفت پر اتر آئے ہیں وہ اس کی آیات کو تسلیم کرنا تو درکنار سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ پھر اپنی اس خصلت پر فخر بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کی تعلیم ہمارے دلوں پر مطلقاً اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ ہمارے دل ایسے اثرات قبول کرنے سے کلیتاً محفوظ ہیں۔ بلکہ ہمیں تو ان آیات کا سننا بھی گوارا نہیں۔ ایسی باتیں سن سن کر ہمارے کان پک گئے ہیں۔ لہٰذا وہ سننے کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تمہاری اس دعوت سے ہمارے اور تمہارے درمیان عداوت کی ایک دیوار حائل ہو چکی ہے اور اس دعوت نے ہمارے اور تمہارے درمیان جدائی ڈال دی ہے۔ لہٰذا ہم تمہاری اس دعوت کو کسی قیمت پر قبول کرنے کو تیار نہیں۔
[4] اس جملہ کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ ہمیں تم سے اور تمہیں ہم سے اب کوئی سروکار نہیں اور ہم دونوں کبھی مل کر بیٹھ نہیں سکتے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی دعوت سے باز نہیں آتے تو اپنا کام کئے جاؤ۔ ہم بھی تمہاری مخالفت سے کبھی باز نہ آئیں گے۔ اس جملہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مخالفوں کی ایذا رسانیوں اور معاندانہ سرگرمیوں کے باوجود اسلام کی دعوت میں اتنی پیش رفت ہو چکی تھی کہ مخالفین مساویانہ سطح پر گفتگو کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔