ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 39

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنَّکَ تَرَی الۡاَرۡضَ خَاشِعَۃً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہَا الۡمَآءَ اہۡتَزَّتۡ وَ رَبَتۡ ؕ اِنَّ الَّذِیۡۤ اَحۡیَاہَا لَمُحۡیِ الۡمَوۡتٰی ؕ اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۳۹﴾
اور اس کی نشانیوںمیں سے ایک یہ ہے کہ تو زمین کو دبی ہوئی (بنجر) دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور پھولتی ہے۔ بے شک وہ جس نے اسے زندہ کیا، یقینا مردوں کو زندہ کرنے والا ہے، یقینا وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
اور (اے بندے یہ) اسی کی قدرت کے نمونے ہیں کہ تو زمین کو دبی ہوئی (یعنی خشک) دیکھتا ہے۔ جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور پھولنے لگتی ہے تو جس نے زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ بےشک وہ ہر چیز پر قادر ہے
اس اللہ کی نشانیوں میں سے (یہ بھی) ہے کہ تو زمین کو دبی دبائی دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وه تر وتازه ہوکر ابھرنے لگتی ہے جس نے اسے زنده کیا وہی یقینی طور پر مُردوں کو بھی زنده کرنے واﻻ ہے، بیشک وه ہر (ہر) چیز پر قادر ہے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین سونی (بے آباد) پڑی ہوئی ہے۔ پھر ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ حرکت میں آتی ہے اور پھول جاتی ہے۔ جس (اللہ) نے اس زمین کو زندہ کیا وہ یقیناً مردوں کو [48] بھی زندہ کر سکتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے
[48] زمین کی روئیدگی سے معاد پر دلیل :۔
اس قدر خشک ہو چکی تھی کہ اس کی اوپر کی سطح خشکی کی وجہ سے پتھر کی طرح بن چکی تھی۔ اوپر سے پانی برسا تو وہ پھولنے لگی۔ بارش کے پانی کی اس مٹی میں آمیزش سے اس میں روئیدگی کے آثار پیدا ہو گئے۔ اور وہ بیج جو کبھی کے زیر زمین پڑے ہوئے تھے۔ ان میں زندگی کے آثار پیدا ہوئے تو اس پھولی ہوئی زمین سے ان بیجوں کے پودوں کی کونپلیں زمین سے باہر نکل آئیں۔ حتیٰ کہ زمین نباتات سے لہلہا اٹھی اور اس پر جوبن آگیا پھر اس بارش سے کئی جانور مینڈک، پپی ہے اور حشرات الارض بھی پیدا ہو گئے۔ بالکل ایسی ہی صورت قیامت کے قریب واقع ہو گی آسمان سے ایک خاص قسم کی بارش برسے گی جس سے تمام مردوں میں زندگی کی لہر دوڑ جائے گی۔ پھر نفخہ صور ثانی کے وقت تمام مرے ہوئے انسان اپنی قبروں سے اس طرح نکل آئیں گے جیسے کونپل زمین سے نکل آتی ہے پھر وہ میدان محشر کی طرف چل کھڑے ہوں گے۔