ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 37

وَ مِنۡ اٰیٰتِہِ الَّیۡلُ وَ النَّہَارُ وَ الشَّمۡسُ وَ الۡقَمَرُ ؕ لَا تَسۡجُدُوۡا لِلشَّمۡسِ وَ لَا لِلۡقَمَرِ وَ اسۡجُدُوۡا لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَہُنَّ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۳۷﴾
اور اسی کی نشانیوں میںسے رات اور دن، اورسورج اور چاند ہیں، نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو اور اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے انھیں پیدا کیا، اگر تم صرف اس کی عبادت کرتے ہو۔
اور رات اور دن اور سورج اور چاند اس کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تم لوگ نہ تو سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو۔ بلکہ خدا ہی کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اگر تم کو اس کی عبادت منظور ہے
اور دن رات اور سورج چاند بھی (اسی کی) نشانیوں میں سے ہیں، تم سورج کو سجده نہ کرو نہ چاند کو بلکہ سجده اس اللہ کے لیے کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے، اگر تمہیں اس کی عبادت کرنی ہے تو

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

37۔ یہ رات اور دن، سورج [46] اور چاند سب اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ نہ تو تم سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اگر تمہیں (فی الواقع) اسی کی عبادت کرنا منظور ہے۔
[46] پیکر محسوس اور غیر اللہ کی پوجا :۔
مشرکین اور بعض صاحبان طریقت یا وحدت الوجود کے قائلین، رہبان اور پیر و فقیر قسم کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سورج اور چاند وغیرہ اللہ تعالیٰ کے مظاہر ہیں۔ لہٰذا ہم جو سورج اور چاند کی پرستش کرتے ہیں تو فی الحقیقت انہیں اللہ کا پیکر محسوس سمجھ کر اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اللہ کے مظاہر یا پیکر محسوس نہیں بلکہ اللہ کی یہ نشانیاں ہیں اور اس کے غلام ہیں۔ ان کا تعلق دن اور رات سے ہے۔ دن کو سورج نکلتا ہے تو چاند روپوش ہوتا ہے اور رات کو چاند ہوتا تو سورج روپوش ہوتا ہے۔ اس سے ایک تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس قدر پابندی سے اپنا کام سرانجام دینے والی چیزیں الٰہ نہیں ہو سکتیں۔ اور دوسرا یہ کہ جو چیزیں عروج و زوال سے دوچار ہوں وہ الٰہ نہیں ہو سکتیں۔ لہٰذا اگر تم فی الواقع اللہ کی عبادت کرنا چاہتے ہو تو براہ راست اللہ کی عبادت کرو جو ان چیزوں کا خالق اور مالک ہے اور ان درمیانی وسائط کو درمیان سے نکال دو۔ کوئی چیز بھی اللہ کا مظہر نہیں یہ تو اس کی نشانیاں ہیں تاکہ ان سے تم اس کی معرفت حاصل کرو۔