ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 30

اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَ اَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۳۰﴾
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر خوب قائم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور اس جنت کے ساتھ خوش ہو جائو جس کاتم وعدہ دیے جاتے تھے۔
جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے ان پر فرشتے اُتریں گے (اور کہیں گے) کہ نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا خوشی مناؤ۔
(واقعی) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اسی پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو (بلکہ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعده دیئے گئے ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

30۔ جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اس پر ڈٹ گئے [37] ان پر فرشتے نازل [38] ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں۔ نہ ڈرو اور نہ غمگین [39] ہو اور اس جنت کی خوشی مناؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے
[37] دین کی تفہیم مختصر ترین الفاظ میں :۔
یہ ایک ایسا جامع جملہ ہے جس میں شریعت کی ساری تعلیم سمٹ کر آگئی ہے۔ چنانچہ سفیان بن عبد اللہ ثقفی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ: ”مجھے اسلام کے متعلق ایک ہی ایسی بات بتا دیجئے جس کے بعد مجھے کسی دوسرے سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو! میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ڈٹ جاؤ“ [مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب جامع اوصاف لاسلام]
یعنی جن لوگوں نے دل و جان سے توحید باری تعالیٰ کا اقرار کیا۔ پھر تا زیست اپنے اس قول و قرار کو پوری دیانتداری اور راست بازی سے نبھایا۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت و الوہیت میں کسی کو شریک نہیں کیا۔ نہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے رہے جو کچھ زبان سے کہا تھا اس کے تقاضوں کو اعتقاداً اور عملاً پورا کیا۔ جو عمل کیا خالص اس کی خوشنودی اور شکر گزاری کے لیے کیا۔ اپنے رب کے مقرر کردہ حقوق و فرائض کو سمجھا اور ادا کیا۔ ایسے لوگوں پر اللہ کی طرف سے جنت کی خوشخبری دینے والے فرشتے نازل ہوتے ہیں۔
[38] فرشتوں کے نزول کا مفہوم :۔
جس طرح ہر افاک اور اثیم پر شیطان نازل ہوتے ہیں جو ان کے دلوں میں القاء کرتے اور وسوسے ڈالتے ہیں۔ اسی طرح اللہ کے دین پر ڈٹ جانے والوں اور مشکلات کے دور میں صبر و استقامت اختیار کرنے والوں پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے۔ جس سے ان کے دلوں کو اطمینان اور سکون صیب ہوتا ہے۔ فرشتوں کے نزول کے لیے ضروری نہیں کہ وہ مرئی اور محسوس طور پر ہو۔ فرشتے میدان بدر میں نازل ہوئے تھے اور ان کے نزول کا مقصد بھی یہی مذکور ہے۔ کہ ان کے نزول سے مسلمانوں کے دلوں کو ڈھارس بندھائی جائے مگر وہ سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کو نظر نہیں آتے تھے اور جب تک یہ مادی زندگی ختم نہیں ہو جاتی اور مادیت کے پردے چاک نہیں ہو جاتے تب تک فرشتوں کا نزول اسی صورت میں ہوتا ہے۔ الا ماشاء اللہ۔ البتہ مرنے کے ساتھ ہی جب یہ پردے اور حجاب اٹھ جائیں گے تو موت کے وقت پھر قبر میں پھر قیامت میں ہر جگہ فرشتے انسانوں کو یقیناً نظر آئیں گے۔
[39] فرشتوں کے نزول کا مقصد :۔
یعنی فرشتے جب ایمان پر ڈٹ جانے والوں پر نازل ہوتے ہیں تو انہیں یہ تلقین کرتے ہیں یا ان کے دل میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ باطل کی طاقتیں خواہ کتنی ہی چیرہ دست ہوں ان سے خوف زدہ ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں اور حق پرستی کی وجہ سے جو مظالم تم پر ڈھائے جا رہے ہیں ان پر رنج نہ کرو کیونکہ اللہ نے تمہارے لیے ایسی جنت تیار کر رکھی ہے جس کے مقابلہ میں دنیا کی سب نعمتیں ہیچ ہیں۔ اور موت کے وقت بھی فرشتے ہر مومن سے یہی کلمات کہتے ہیں۔ اس وقت وہ فرشتوں کو دیکھتا بھی ہے اور ان کی بات بھی سمجھتا ہے تو اس وقت ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آگے جس منزل کی طرف تم جا رہے ہو اس سے خوفزدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ جنت تمہاری منتظر ہے اور دنیا میں جنہیں تم چھوڑ کر جا رہے ہو ان کے لیے بھی رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم تمہارے ولی اور رفیق ہیں۔