اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کہیں گے اے ہمارے رب! تو ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ دونوں دکھا جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا، ہم انھیں اپنے قدموں کے نیچے ڈالیں، تاکہ وہ سب سے نچلے لوگوں سے ہو جائیں۔
اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار جنوں اور انسانوں میں سے جن لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا ان کو ہمیں دکھا کہ ہم ان کو اپنے پاؤں کے تلے (روند) ڈالیں تاکہ وہ نہایت ذلیل ہوں۔
اور کافر لوگ کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں جنوں انسانوں (کے وه دونوں فریق) دکھا جنہوں نے ہمیں گمراه کیا (تاکہ) ہم انہیں اپنے قدموں تلے ڈال دیں تاکہ وه جہنم میں سب سے نیچے (سخت عذاب میں) ہو جائیں۔
29۔ اور (قیامت کے دن) کافر کہیں گے: اے ہمارے پروردگار! ہمیں جنوں [36] اور انسانوں میں سے وہ لوگ دکھا دے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ ہم انہیں اپنے پاؤں تلے روندیں تاکہ وہ ذلیل و خوار ہوں۔
[36] گمراہوں کی اپنے لیڈروں کو پاؤں تلے روندنے کی آرزو :۔
یہاں جنوں سے مراد شیطان ہیں یعنی بد کردار جن جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرتے ہیں۔ قیامت کے دن کافر جب اپنا انجام دیکھیں گے تو انہیں اپنے وہ قائد، وہ سیاسی لیڈر وہ مذہبی پیشوا یاد آئیں گے جن کے پیچھے لگ کر یہ گمراہ ہوئے تھے۔ وہ اللہ سے التجا کریں گے کہ آج وہ قائد ہمیں دکھا دے تاکہ ہم انہیں اپنے پاؤں کے نیچے مسل کر کچھ تو انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کر لیں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔