26۔ اور کافر (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں کہ: اس قرآن کو نہ سنو [33] اور (جب پڑھا جائے تو) خوب شور مچاؤ۔ اس طرح شاید تم غالب رہو۔
[33] ابن دغنہ کا ابو بکرؓ کو پناہ دینا بشرطیکہ قرآن بلند آواز سے نہ پڑھیں :۔
جو شخص بھی قرآن سنتا تھا تو قرآن کی بات اس کے دل میں اتر جاتی تھی اور یہی بلا کی تاثیر قرآن کا اعجاز تھا جس سے قریش مکہ سخت خائف رہتے تھے۔ اور قرآن سے متعلق انہوں نے تین طرح کے اقدام کئے تھے تاکہ اس کی آواز کو دبایا جا سکے۔ ان میں سے پہلا اقدام تو مسلمانوں پر پابندی تھی کہ وہ قرآن کو اونچی آواز سے نہ پڑھا کریں کیونکہ اس طرح ان کی عورتیں اور بچے متاثر ہوتے ہیں۔ اسی جرم کی پاداش میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کئی بار حملے ہوئے اور مسلمانوں کی بھی پٹائی ہوئی۔ اسی جرم کی پاداش میں سیدنا ابو بکر صدیقؓ پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا اور آپ ہجرت کی غرض سے نکل کھڑے ہوئے۔ برک غماد کے مقام پر پہنچے تھے کہ قبیلہ قارہ کا سردار ابن دغنہ انہیں اپنی پناہ میں لے کر واپس مکہ لے آیا۔ سرداران قریش نے اس پناہ کو صرف اس شرط پر منظور کیا کہ آپ قرآن بلند آواز سے نہ پڑھا کریں گے۔ مگر سیدنا ابو بکر صدیقؓ زیادہ دیر اس شرط پر قائم نہ رہ سکے تو قریشی سرداروں نے ابن دغنہ کے پاس جا کر شکایت کی۔ ابن دغنہ نے سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے پاس آکر انہیں اپنا عہد یاد دلایا اور کہا کہ اگر تم برسرعام قرآن بلند آواز سے پڑھنا نہ چھوڑو گے تو میں تمہاری پناہ سے دستبردار ہوتا ہوں۔ اس کے جواب میں سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا: ”تم اپنی پناہ اپنے پاس رکھو اور میرا معاملہ اللہ کے سپرد ہے“ [بخاري۔ كتاب الانبياء۔ باب هجرة النبي صلی اللہ علیہ وسلم]
ابو جہل کا قرآن سے متاثر ہونا :۔
ان کا دوسرا اقدام یہ تھا کہ ان سرداروں نے آپس میں بھی پابندی لگا رکھی تھی کہ وہ عمداً قرآن نہیں سنا کریں گے۔ اور یہ ایسی پابندی تھی جسے یہ پابندی لگانے والے سردار خود بھی نباہ نہ سکے۔ کیونکہ ان کے کان اور ان کے دل قرآن کی بلاکی تاثیر سے لطف اندوز ہوئے بغیر نہ رہتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کعبہ میں کھڑے ہو کر بلند آواز سے قرآن پڑھ رہے تھے اور تین قریشی سردار ایک دوسرے سے چھپتے چھپاتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن سن رہے تھے۔ بعد میں یہ راز فاش ہو گیا تو ان میں سے ایک سردار نے ابو جہل سے پوچھا کہ جو قرآن تم نے سنا ہے اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ اس سوال کا صحیح جواب دینے کی بجائے ابو جہل نے بات کا رخ دوسری طرف موڑتے ہوئے کہا کہ ہم (یعنی بنو مخزوم) اور بنو عبد مناف سب باتوں میں ہمسر تھے۔ اب ہم ان کے نبی کو تسلیم کر کے ان کی برتری کیسے تسلیم کر سکتے ہیں؟ گویا اس کا صحیح جواب کو گول کر جانا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ قرآن کی تاثیر سے متاثر ہو چکا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تسلیم کرنے میں محض قبائلی رقابت اور تکبر اس کے آڑے آرہا تھا۔
قرآن کی آواز کو دبانے کا جدید طریقہ : لاؤڈ سپیکر :۔
اور ان کا تیسرا اقدام یہ تھا کہ جہاں قرآن پڑھا جا رہا ہو وہاں خوب شور مچاؤ، تالیاں بجاؤ اور اتنا غل غپاڑہ کرو کہ قرآن کی آواز اس شور میں دب جائے اور کسی کے کان میں نہ پڑنے پائے۔ آج بھی جاہلوں کو ایسی ہی تدبیریں سوجھا کرتی ہیں۔ اور مکہ کے کافروں کو تو شور مچانے کی زحمت برداشت کرنا پڑتی تھی آج یہ زحمت بھی گوارا نہیں کرنا پڑتی۔ بس لاؤڈ سپیکر کے طاقتور اور زیادہ ہارن لگا دینے سے ہی یہ مقصد حاصل کر لیا جاتا ہے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔